پاکستان کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ عدلیہ قوم کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہوچکی ہے اور کوئی بھی اعتماد کے ساتھ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ ادارہ آزاد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ریاست کی عدالتی شاخ کی حیثیت سے ہمیں اس مبارک موقع پر اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ریاست نے اپنے شہریوں کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کا اپنا آئینی فرض پورا کیا ہے، کیا اصل اسٹیک ہولڈرز، پاکستان کی عوام کو انصاف اور غیر جانبداری، احتساب، جوابدہی اور عدالتی نظام کی آزادی پر بھروسہ اور اعتماد ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ‘مجھے تشویش ہے کہ جواب اطمینان کے ساتھ ہاں میں نہیں دیا جا سکتا’۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ ‘عدالتی نظام پر لوگوں کے اعتماد کا فقدان اور قانون کی حکمرانی کا خاتمہ جابرانہ اور ظالم قوتوں کے لیے ایک موقع پیدا کرتا ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک آزاد، غیر جانبدار اور موثر عدلیہ قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے، معاشرے کے کمزور طبقات کے بنیادی حقوق کی حفاظت اور جبر، غربت، تنزلی اور معاشی اور معاشرتی عدم مساوات کے خلاف ایک بنیادی ضرورت ہے’۔
اپنے پیغام میں جسٹس اطہر من اللہ نے ملک کی تاریخ میں کی گئی متعدد ماورائے آئین کارروائیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایک حقیقی آزاد ادارے کے حصول، آئین کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی کی بحالی کی طرف ہمارا سفر بدستور برقرار ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام نے بہر حال آئین کے تحت چلنے والے جمہوری نظام کے قیام کے لیے انتھک محنت اور کوشش کی ہے، اس طرح کے نظام کی سب سے اہم خوبیاں مضبوط، آزاد اور مستحکم ادارے ہیں جو آئین کی طرف سے مقرر کردہ حدود کے اندر کام کرتے ہیں۔