پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے وزارت اطلاعات کی جانب سے کیے گئے پاکستان کے سوشل میڈیا کے دو سالہ مواد کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے خلاف بڑے سوشل میڈیا ٹرینڈز کو بھارت نے لیڈ کیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا کو خصوصی میڈیا کو استعمال کیا جاتا ہے اور ہمارے اپنے لوگ بھی جانتے بوجھتے یا نہ جانتے اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری وزارت کی ڈیجیٹل میڈیا ونگ نے پورے دو سال کے مواد کا بغور جائزہ لیا ہے، جون 2019 سے لے کر اگست 2021 تک پاکستان کے سوشل میڈیا کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ کہتے ہوئے بڑا افسوس ہے کہ پاکستان کے خلاف بڑے سوشل میڈیا ٹرینڈز کو بھارت نے لیڈ کیا اور اس میں پاکستان کے اندر بھارت کی مدد کرنے میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اور ان سے تعلق رکھنے والے کارکن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس میں افغانستان کی موجودہ حکومت کے لوگ شامل ہوئی ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی ایم نے ریاست پاکستان کے خلاف جو مرکزی ٹرینڈز لیڈ کیے وہ دو برسوں میں 150 ٹرینڈز ہیں، ان میں 37 لاکھ ٹوئٹس کی گئیں، یہ تقریباً ایک ہزار گھنٹے بنتے ہیں جو پی ٹی ایم کے 150 ٹرینڈز کے لیے استعمال ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ‘دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی ایم نے یہاں تک کہ بلوچستان کی علیحدگی کو بھی فعال انداز میں حمایت کی اور 14 اگست 2020 کو ایک ٹرینڈ پاکستان سولیڈیریٹی ڈے چلایا گیا، اس ٹرینڈ کو بھارت سے ایک دن میں ڈیڑھ لاکھ ٹوئٹس ملیں، شروع پی ٹی ایم نے کیا اور حمایت ہندوستان سے کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس میں جو مزید ٹرینڈز چلائے گئے ان میں پی ٹی ایم ایکسپوزڈٹیرارم پر 23 ہزار ٹوئٹس، دا سنگا آزادی 32 ہزار ٹوئٹس، بلوچستان سولیڈیریٹی ڈے پر مجموعی طور پر ایک لاکھ 45 ہزار ٹوئٹس پاکستان سے ہوئیں اور اس کے بعد ہندوستان سے ہوئیں۔
ٹرینڈز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ‘ٹائرینٹ پاکستان آرمی، آرمی بی ہائنڈ ٹارگٹ کلنگ، پاکستان آرمی کلز پشتونز، پشتون جینوسائیڈز یہ سارے ٹرینڈ پی ٹی ایم نے کیا اور ان کو سپورٹ انڈیا سے مل رہی تھی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ‘ابھی دو تین دنوں سے ایک ٹرینڈ سینگشن پاکستان چلایا جا رہا، اس میں دوبارہ پی ٹی ایم نے 20 ہزار ٹوئٹس ڈالی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ 8 لاکھ ٹوئٹس کی گئیں۔
پاکستان مخالف تازہ ٹرینڈ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس میں افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح، قومی سلامتی مشیر رحمت اللہ اندور، وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی نے بھی ان ٹوئٹس میں حصہ لیا ہے اور کل 8 لاکھ ٹوئٹس کی گئی ہیں، اس میں بھی زیادہ ٹوئٹس ہندوستان اور افغانستان سے ہورہی ہیں۔