سردار قیوم نیازی پاکستانی زیر قبضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعظم منتخب ہوگئے

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

کٹھ پتلی وزیراعظم کے انتخاب کے لیے پاکستانی زیر قبضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں ووٹنگ ہوئی جس میں تحریک انصاف کے سردار عبدالقیوم نیازی کو 33 ووٹ ملے جس کے بعد وہپاکستانی زیر قبضہ کشمیر کے 13 ویں کٹھ پتلی وزیراعظم منتخب ہوئے۔

متحدہ اپوزیشن کی جانب سے چوہدری اکبر لطیف کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کیا گیا تھا جنہوں نے 15 ووٹ حاصل کیے۔

سردار عبدالقیوم نیازی مسلم کانفرنس چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے، سردار عبدالقیوم نیازی نے 25 جولائی کو ہونے والے پاکستانی زیر قبضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں حلقہ ایل اے 18 پونچھ ون سے کامیابی حاصل کی تھی۔

نئے کٹھ پتلی وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی کا تعلق حلقہ ایل اے 18پونچھ ون کے گاؤں درہ شیر خان سے ہے جو لائن آف کنٹرول کے بالکل سامنے ہے۔

سردار عبدالقیوم نیازی 1969 میں گاؤں درہ شیر خان میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق مغل خاندان سے ہے اور وہ تخلص کے طور اپنے نام کے ساتھ’نیازی‘ لکھتے ہیں، مقامی سطح پر ان کو دلی مغل کہا جاتا ہے۔

ان کے آباؤ اجداد 1947 میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے ضلع پونچھ کے کنٹرول لائن پر واقع علاقہ درہ شیر خان میں آباد ہوئے، ان کے بڑے بھائی سردار غلام مصطفیٰ مغل 1985 میں وزیر مال رہے، سردار عبدالقیوم خان نیازی نے 22 سال کی عمر میں ڈسٹرکٹ کونسلر کا الیکشن لڑا جو جیت گئے۔

2006 میں ممبر اسمبلی کے لیے مسلم کانفرنس کے ٹکٹ سے الیکشن لڑا اور امیدوار اسمبلی نامزد ہوئے، 2006 سے 2011 تک وزیر خوراک سمیت دیگر وزارتوں پر بطور وزیر اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔

2011 میں دوبارہ مسلم کانفرنس کے ٹکٹ سے امیدوار اسمبلی کے لیے الیکشن لڑا جس میں ناکام ہوئے، 2016 میں ایک بار پھر مسلم کانفرنس کے ٹکٹ سے امیدوار اسمبلی کے لیے میدان میں اترے اور چند سو ووٹوں سے الیکشن ہار گئے۔

بعد ازاں الیکشن میں دھاندلی کا الزام لے کر عدالت پہنچے جس کا کیس عام انتخابات 2021 تک عدالت میں تھا۔

2019 میں مسلم کانفرنس کی دیرینہ رکنیت کو خیر باد کہہ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور عام انتخابات 2021 میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ سے الیکشن لڑا اور 9 ہزار کی لیڈ کے ساتھ 24758 ووٹ حاصل کیے۔

یاد رہے کہ یہ الیکشن 2018کی الیکشن کی طرح مکمل انجینئرڈتھے اور پاکستانی فوج نے پہلے سے پی ٹی آئی کو 25سیٹیں،پیپلز پارٹی کو 11سیٹیں اور مسلم لیگ (ن) کو6سیٹیں جبکہ جموں کشمیر پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس کو ایک ایک سیٹیں دینے کا شیڈول طے کیا تھااور مذکورہ شیڈول پہلے سے تجزیہ کاروں کے ہاتھ لگ گیاتھا۔

جب الیکشن کے نتائج کا اعلان ہوا تو پاکستانی فوج کی طے شدہ انجینئرڈ الیکشن رزلٹ بالکل سیم نکل کر سامنے آگیا۔البتہ توڑا اونچ نیچ ہوگیاجس میں پیپلز پارٹی کو 11سیٹیں اور مسلم لیگ (ن) کو6سیٹیں دینے تھے وہ ایک ایک سے آگے نکل گئے۔

واضع رہے کہپاکستانی زیر قبضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پی ٹی آئی کی 32 نشستیں ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کی 12 اور مسلم لیگ ن کی 7 نشستیں ہیں، جموں کشمیر پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس کے پاس ایک ایک نشست موجود ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment