کراچی: بحریہ ٹاؤن کیخلاف احتجاج کرنے والے سینکڑوں ا فراد گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
10 Min Read

تعمیراتی کمپنی بحریہ ٹاؤن کی جانب سے مقامی گوٹھوں کو مسمار کرنے کے خلاف سندھ کی قوم پرست جماعتوں، مزدور و کسان تنظیموں اور متاثرین کی جانب سے ’غیر قانونی قبضے چھڑوانے کے لیے‘ ہونے والے احتجاج کے دوران متعدد عمارتیں اور گاڑیاں نذرِ آتش کر دی گئی ہیں۔

کراچی پولیس نے بحریہ ٹاؤن میں ہنگامہ آرائی کے الزام میں 80 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا ہے، قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان میں ان کے کارکن شامل ہیں۔

ایک سینئر پولیس افسر نے میڈیا کو بتایا کہ جائے وقوع اور آس پاس سے ان افراد کو حراست میں لیا گیا ہے انھوں نے اس الزام کو مسترد کیا کہ خواتین بھی گرفتار افراد میں شامل ہیں ان کا کہنا تھا کہ کچھ خواتین کو تھوڑی دیر صرف روکا گیا تھا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ پتھراؤ میں ’ایک ایس پی اور ایک ایس ایچ او بھی زخمی ہوئے ہیں، لہذا سرکار کی مدعیت میں مقدمہ دائر ہوگا جبکہ جن لوگوں کا نقصان ہوا ہے وہ اگر مقدمہ درج کرانا چاہیں تو وہ بھی دائر ہوں گے۔‘

سندھ یونائیڈ پارٹی کے ترجمان مخدوم شمس کا کہنا ہے کہ ان کے سو سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ 15 سے زائد خواتین کو گڈاپ تھانے پر رکھا گیا ہے۔

سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنما روشن جونیجو نے بی بی سی کو بتایا کہ قوم پرستوں کے اتحاد میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ گرفتاریوں اور تشدد کے خلاف 9 جولائی کو سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرہے کیے جائیں گے جبکہ سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقعے پر اسمبلی کا گھیراؤ ہوگا جس کی تاریخ کا اعلان جلد کردیا جائیگا۔

دوسری جانب بحریہ کے خلاف احتجاج نے بین الاقومی احتجاج کی صورت اختیار کرلی ہے، ورلڈ سندھی کانگریس کی جانب سے برطانیہ میں لندن، اور امریکہ میں نیویارک اور ھوسٹن میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

اتوار کو بحریہ ٹاؤن کے سامنے ہونے والے مظاہرے میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران نامعلوم افراد نے مرکزی دروازے کے باہر اور اندر واقع تعمیرات کے علاوہ چند موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی جبکہ پولیس نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے شدید شیلنگ کی۔

یہ ہنگامہ آرائی احتجاجی دھرنا سپر ہائی وے سے بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دروازے کے باہر منتقل کیے جانے کے بعد شروع ہوا۔

مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاج سے قبل مظاہرین نے سپر ہائی وے پر دھرنا دیا ہوا تھا جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی تھی۔ بعدازاں سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما قادر مگسی نے پولیس حکام سے بات کی اور انھیں کہا کہ ’مظاہرین کو گیٹ کے سامنے دھرنا دینے دیا جائے تو وہ سپر ہائی کھول دیں گے‘ جس کے بعد انھیں دھرنے کی اجازت دے دی گئی۔‘

مرکزی دروازے کے سامنے احتجاج کے دوران نامعلوم افراد بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوگئے اور وہاں توڑ پھوڑ شروع کر دی جس کے بعد جلسہ گاہ سے اعلان کیا گیا کہ ’شرپسندوں کا تعلق ان سے نہیں ہے اور پولیس انھیں حراست میں لے۔‘

توڑ پھوڑ کرنے والے ان افراد نے نہ صرف رکاوٹوں کو نذر آتش کیا بلکہ موقعے پر موجود گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگا دی۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران بحریہ ٹاؤن کے اندر واقع کم از کم دو عمارتوں سے دھواں اٹھتا بھی دیکھا گیا۔

اس ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔

سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ کا کہنا ہے کہ ’ہنگامہ آرائی کرنے والوں کا تعلق سندھ ایکشن کمیٹی سے نہیں ہے۔ وہ پرامن لوگ ہیں اور پرامن احتجاج میں یقین رکھتے ہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ ’اس پر امن احتجاج کو بدنام کرنے کے لیے کچھ عناصر نے یہ اقدام کیا ہے۔‘

خیال رہے کہ سندھ ایکشن کمیٹی نے ہی سپر ہائی وے پر واقع بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دروازے کے سامنے اتوار کو آٹھ گھنٹے کے لیے دھرنے کا اعلان کیا تھا جس میں دیگر سیاسی جماعتوں اور علاقائی تنظیموں نے شرکت کی حامی بھری۔

اس احتجاج کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس نے جگہ جگہ چوکیاں بھی قائم کیں جبکہ احتجاج میں شامل تنظیموں کا الزام ہے کہ بعض مقامات پر قافلوں کو روکا بھی گیا، جس کی صوبائی حکومت نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے سکیورٹی کے انتظامات کیے تھے۔

سندھ کے صوبائی وزیر سید ناصر شاہ کا کہنا ہے کہ ’اگر حکومت رکاوٹیں پیدا کرتی تو یہ قوم پرست دوست یہاں تک کیسے پہنچتے۔

انھوں نے کہا کہ ’قوم پرست، جے یو آئی اور سول سوسائٹی کے لوگ پُرامن لوگ ہیں لیکن ایسا نہ ہو کہ کوئی شرپسند اس صورتحال کا فائدہ لے۔ اسی سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جس کے بعد کراچی پولیس نے بحریہ ٹاؤن کے سکیورٹی انچارج سمیت دیگر اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جبکہ ایک ایس ایچ او کو معطل کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے بحریہ ٹاؤن نے موقف دیا تھا کہ ’مقامی بااثر سیاسی افراد اور لینڈ مافیا مل کر‘ انھیں ’سیاسی و مالی مفادات کی خاطر‘ بلیک میل کر رہے ہیں۔

اس دھرنے میں جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ کی سندھ یونائیٹڈ پارٹی، قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی، ایاز لطیف پلیجو کی قومی عوامی تحریک، خالق جونیجو کی جئے سندھ محاذ سمیت عوامی ورکرز پارٹی، عوامی جمہوری پارٹی، سندھ مزاحمت تحریک، ہاری کمیٹی، انڈجنس رائٹس اور دیگر جماعتیں شامل ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کراچی میں بحریہ ٹاؤن کے قیام سے لے کر یہ سب سے بڑا احتجاج تھا، جس میں سندھ بھر سے سیاسی کارکنان کے علاوہ ادیب، شاعر و دانشور بھی شریک تھے۔

سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ’بحریہ ٹاؤن انتظامیہ مقامی گوٹھوں اور آس پاس کی زمینوں پر قبضہ گیری بند کرے اور سپریم کورٹ نے اس کو جتنی زمین دی ہے اس پر اپنا منصوبہ محدود کرے۔ باقی اس کی تمام کارروائی غیر قانونی و غیر آئینی ہے جس میں پیپلز پارٹی کی حکومت ان کی مدد گار ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ کہ ’آصف زرداری دیکھ لیں ایک طرف سندھ کا قومی و سیاسی کارکن، ادیب و دانشور ہے دوسری جانب ملک ریاض ہیں۔ انھیں سوچنا چاہیے کہ وہ کس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔‘

یاد رہے کہ مئی 2021 میں بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے ہیوی مشینری کے ہمراہ گبول گوٹھ سمیت دیگر آبادیوں کو مسمار کرنے کی کوشش کی تھی جس پر مقامی لوگوں نے مزاحمت کی اور اس دوران فائرنگ کی ویڈیوز سوشل میڈیل پر وائرل ہوئیں۔

سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے ایک پریس کانفرنس میں اس صورتحال پر سوال کیا گیا جس پر ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزیراعلیٰ کو تحقیقات کے لیے کہا ہے۔

حکومت سندھ کے احکامات پر تحصیل دار عبدالحق چاوڑ، پٹواری انور حسین، پٹواری حبیب اللہ ہوت اور ایس ایچ او گڈاپ شعور احمد بنگش کو معطل کیا گیا تھا۔

اس سارے معاملے پر بحریہ ٹاؤن کی جانب سے گذشتہ ماہ کہا گیا تھا کہ انھوں نے کوئی بھی غیر قانونی اقدام نہیں اٹھایا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ’کچھ بلیک میلرز یہ معاملات پیدا کر رہے ہیں‘ جبکہ ’بحریہ ٹاؤن نے اپنے قریب کے گوٹھوں میں لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے ہیں۔‘

بحریہ ٹاؤن کے بیان مطابق انھوں نے ’سوشل میڈیا پر گمراہ ویڈیوز اور بے بنیاد الزامات کی مکمل تردید‘ کی تھی۔

صوبائی وزیر سید ناصر شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کے ادارے اپنی تحقیقات کر رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے مقامی منتخب اراکین بھی لوگوں سے رابطے میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ’کیوں چاہیں گے کہ لوگ بے گھر ہوں۔‘

Share This Article
Leave a Comment