پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین کیخلاف یورپی پارلیمنٹ کی قرار داد

ایڈمن
ایڈمن
9 Min Read

یورپی پارلیمنٹ نے جمعرات کے روز پاکستان کے توہین مذہب کے قوانین کے خلاف بھاری اکثریت سے ایک قرار داد منظور کی ہے اور یورپین کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں مذہب کی بنیاد پر تشدد کے بڑھتے رجحان کے پیش نظر اس کی بیرون ملک بر آمدات کے لئے حاصل ترجیحی سٹیٹس جی ایس پی پلس پر نظر ثانی کرے۔

اس قرار داد میں کہا گیا ہے کہ یورپین کمیشن اور یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس (EEAS) اس بات کا جائزہ لے کہ کیا پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس عارضی طور پر ختم کیا جا سکتا ہے؟

یاد رہے کہ پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے جنوری 2014 سے جی ایس پی پلس سٹیٹس کی سہولت میسر ہے جس کے تحت پاکستان برآمدات میں ترجیحی ڈیوٹیز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

پچھلے برس یورپی پارلیمان کی بین الاقوامی تجارتی کمیٹی نے پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کو آئندہ دو برس کے لیے توسیع دی تھی۔

یورپی پالیمان کی بھاری اکثریت سے منظور ہونے والی قرار داد میں پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ توہین مذہب کے قوانین کو، جن میں 295B اور C شامل ہیں، ختم کرے۔ اس کے علاوہ قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان 1997 کے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں تبدیلی کرے تاکہ توہین مذہب کے ملزمان کا ٹرائل انسداد دہشت گردی عدالتوں میں نہ کیا جائے۔

قرار داد میں پاکستان میں توہین مذہب کے الزامات سے متاثر ہونے والے افراد کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ قرارداد میں خصوصی طور پر شفگتہ کوثر اور شفقت ایمانویل کے کیس کا ذکر کیا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ ان دونوں کا کیس مسلسل التوا کا شکار ہے اور لاہور ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ جلد از جلد ان کے کیس کا فیصلہ کرے اور بنا کسی وجہ کے کیس کو ملتوی نہ کیا جائے۔

یاد رہے کہ شگفتہ کوثر اور شفقت ایمانویل گزشتہ سات برس سے توہین مذہب کے الزام میں جیل میں قید ہیں اور ان کا توہین مذہب میں موت کی سزا کے خلاف اپیل کا کیس لاہور ہائی کورٹ میں چل رہا ہے۔

قرار داد میں الزام لگایا گیا کہ پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ قرارداد کے مطابق اس کی وجہ سے ملک میں مذہبی عدم برداشت اور تشدد کی ثقافت رواج پا رہی ہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان کے توہین مذہب کے قوانین بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین سے متصادم ہیں۔

اس قرارداد میں پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اقلیتوں پر مبینہ طور پر ہونے والے پرتشدد واقعات کی واضح طور پر مذمت کرے اور یقینی بنائے کہ پاکستان کے توہین مذہب کے قوانین اقلیتوں کے خلاف مظالم میں استعمال نہ ہوں۔

قرارداد میں پاکستان کے پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان کے ایک مبینہ بیان کی مذمت کی گئی ہے، جس میں انہوں نے توہین مذہب کرنے والوں کا ”سر قلم” کرنے کی بات کی تھی۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے اس قرارداد کی منظوری پر افسوس کا اظہار کیا ہے، جس میں پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین پر نظر ثانی نہ کرنے تک پاکستان کو اپنی برآمدات کے لئے حاصل ترجیحی سٹیٹس جی ایس پی پلس ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی پارلیمان میں پاکستان کے توہین مذہب کے قوانین پر بحث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین کے سیاق و سباق اور اس سے جڑی حساسیت کو سمجھنے سے عاری ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے بیان میں یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد میں پاکستان کے عدالتی نظام اور قوانین پر تبصرے کو مایوس کن قرار دیا۔

بیان کے مطابق، پاکستان ایک پارلیمانی جمہوریت ہے اور یہاں سول سوسائٹی، آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ موجود ہیں۔ ان کے بقول پاکستان اپنے شہریوں کے انسانی حقوق کی بلاتفریق حفاظت میں پرعزم ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور ان کی بنیادی آزادیوں کی ضمانت آئین میں دی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے مذہبی آزادی، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اور یہ کہ اسلاموفوبیا اور پاپولزم کے دور میں دنیا کو مل کر زینوفوبیا، عدم برداشت اور مذہبی تشدد کے خلاف کام کرنا چاہئے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے مابین دوطرفہ تعلقات میں کئی معاملات پر مذاکرات کے لیے طریقہ کار موجود ہیں، جن میں جمہوریت، انصاف، گورننس اور انسانی حقوق پر گفتگو شامل ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ تمام مشترکہ دلچسپی کے معاملات پر مثبت بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار رہے گا۔

یورپی پارلیمان کی قرار داد میں پاکستان میں صحافیوں، دانشوروں، سول سوسائٹی کے ارکان اور خواتین پر مبینہ طور پر بڑھتے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جن میں آن لائین حملے بھی شامل ہیں اور پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں کی حفاظت کا بندوبست کرے اور انہیں ہراساں کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں لایا جائے۔

رپورٹ میں یورپی یونین کے تمام ممالک سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ شگفتہ کوثر اور شفقت ایمانویل کے کیس میں ان کی مدد کریں اور انہیں ان کے وکیل سیف الملوک سمیت ان دونوں کو بین الاقوامی حفاظت میں لانے کے لیے ایمرجنسی ویزے فراہم کئے جائیں۔

تحریک کے بانی علامہ خادم حسین رضوی گزشتہ سال انتقال کر گئے تھے۔

اس کے علاوہ قرارداد میں پاکستان میں ہونے والے فرانس مخالف مظاہروں کی بھی مذمت کی گئی۔

قرارداد میں پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے ذہنی طور پر بیمار افراد کی پھانسی کی سزا کو ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا۔

پاکستان کی انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے اس قرار داد پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ اس قرارداد کو پیش کرنے والوں میں سے ایک فرد کا تعلق ایسی پارٹی سے تھا جس کے بارے میں سویڈن کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ اس پارٹی کی بنیادیں فاشسٹ، نازی اور نسل پرستانہ ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان کے جی ایس پی پلس کا معاملہ اب اسلاموفوبیا کی نذر ہو جائے گا۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں مسائل ہیں، مگر ان کی وزارت کے تحت اس بارے میں بہت سا کام کیا گیا ہے۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں یورپین یونین کی پاکستان میں سفیر آندرولا کامینارا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ معاملات کو گفتگو اور مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان مذاکرات کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن انتہائی موقف اختیار کرنے سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment