روسی اپوزیشن لیڈر الیکسی نیولنی کا جیل میں بھوک ہڑتال ختم کرنیکا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

روس کے اپوزیشن لیڈر الیکسی نیولنی نے جمعے کے روز اپنے انسٹا گرام اکاونٹ پر جیل میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے ڈاکٹروں کے ایک پینل نے ان کا معائنہ کیا تھا۔ نیولنی نے اپنی کمر اور ٹانگ میں شدید درد پر مناسب علاج معالجہ نہ ملنے کی وجہ سے 21 مارچ کو بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔

انسٹا گرام پر اپنی پوسٹ میں نیولنی کا کہنا تھا کہ سویلین ڈاکٹروں کے پینل نے دو بار ان کا معائنہ کیا ہے، اور انہوں نے ان کے ٹیسٹ اور تجزیے کئے ہیں جس کے بعد وہ ان کے نتائج سے انہیں آگاہ کریں گے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں مزید یہ لکھا کہ وہ ڈاکٹر سے فوری معائنے کیلئے دی گئی اپنی درخواست واپس نہیں لے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اںہیں ان کے بازئوں اور ٹانگوں کے کچھ حصے بے جان سے محسوس ہو رہے ہیں،وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور اس کے علاج کے لئے کیا کرنا ہوگا۔

تاہم، اب تک کی پیش رفت کو مد نظر رکھتے ہوئے اور تمام حالات کو دیکھتے ہوئے، وہ بھوک ہڑتال کو ختم کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں بھوک ہڑتال پوری طرح سے ختم کرنے میں 24 گھنٹے لگیں گے۔ انہوں نے اپنی حمایت پر روس کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔

جمعرات کے روز، روس بھر میں ہونے والے مظاہروں میں نیولنی کے 1900 حامیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ نیولنی نے کہا ہے کہ مظاہروں کا علم ہونے کے بعد انہیں بہت فخر اور امید کا احساس ہوا۔

روس کے اپوزیشن رہنما نیولنی گزشتہ سال زہر خورانی کی ایک ناکام کوشش میں بچ گئے تھے۔ جرمنی میں اپنے علاج کے بعد، اس سال جنوری میں روس واپس آنے پر انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ روس کا کہنا ہے کہ انہیں زہر دینے میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔

فروری میں انہیں خردبرد کے الزام میں ڈھائی سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

امریکہ اور دیگر ممالک نے نیولنی کو زہر دینے کے واقعے کے بعد روس پر پابندیاں کا اعلان کیا ہے اور کئی ملک نیولنی کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment