پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے تحصیل دھیرکوٹ کے علاقے چڑالہ میں گذشتہ دنوں ایک فوجی اہلکار نے گیارہ سالہ بچے سے جنسی زیادتی کی جس سے بچے کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
مقامی ذرائع بتاتے ہیں کہ علاقہ مکینوںنے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے مجرم کو پکڑ لیااور پوچھ گچھ کرنے پر معلوم ہوا کہمجرم چکوال کا رہائشی اور پاکستانی فوج کا سپاہی ہے۔
جس کی شناخت ضوار حسین کے نام سے ہوگئی ہے ۔
جبکہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوجی اہلکار موقع پر پہنچ کرمجرم کو چھڑا کر اپنے ساتھ لے گئے۔
اطلاعات ہیں کہ فوج مجرم کو پولیس کے حوالے کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے اور اسے بچایا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کے حاضر سروس ملازم ضوار حسین نے کرکٹ کھیلتے بچے کو پانی لانے کے بہانے کمرے میں لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنایا۔
اس افسوسناک واقعہ کے بعد عوام میں کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔اور انہوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائی اور بچے سے زیادتی کے مرتکب مجرم کو پولیس کے حوالے کیا جائے اور مروجہ قوانین کے مطابق عدالت میں پیش کرکے قانون کے تحت سزا دی جائے۔
ویسے یہ شنید میں ہے کہ پاکستان کے زیر قبضہ آزادکشمیر میں 16 سال سے کم عمر کے بچوں سے جنسی زیادتی پر مردانہ صلاحیت سے محروم کرنے کا قانون ہے ۔
واضع رہے کہ پاکستانی فوج کے حوالے سے تاریخ گواہ ہے کہ وہ جہاں بھی جاتی ہے اس طرح کی جنسی درندگی کی وارداتیں کرتی رہی ہے ۔ بنگلہ دیش میں عورتوں کو ریپ کرکے انکی چھاتیاں کاٹی گئیں اسی طرح بلوچستان میںروزانہ کی بنیاد پر فوجی اہلکارآپریشن کے آڑ میں گھروںمیں گھس کر لوٹ مار کرکے عورتوں اور بچوںکو اغوا کرکے کیمپ لے کرجا جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔