قتل پر پریشان نہیں ,ہم بانک کریمہ ہیں، والدہ حنیف شریف

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بانک کریمہ بلوچ کی میت کے اغوا اور انھیں اسلامی روایات اور بلوچ قومی روایات کے مطابق آخری رسومات ادا نہ کرنے دینے پر بلوچ قوم میں پاکستانی فوج کے خلاف سخت نفرت کا اظہار سامنے آیا ہے۔

تربت میں بانک کریمہ کی غائبانہ نمازِجنازہ کے موقع پر معروف بلوچ ادیب و دانشور ڈاکٹر حنیف شریف کی والدہ نے حالات و تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ بانک کریمہ کی میت کے ساتھ ایسا سلوک بڑا ظلم ہے۔ بانک کریمہ کے قتل پر ہم پریشان نہیں ہیں کیونکہ اب ہم سب بانک کریمہ بن گئے ہیں۔
ہم بانک کریمہ کے جنازے میں شرکت کے لیے پیدل جنگل و بیاباں سے ہوکر پہنچے تھے۔ہمارے پیروں کے چھالے گواہ ہیں کہ ہمیں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم بہت بے بس و لاچار تھے۔

ڈی بلوچ کے مقام پر ہمیں روکا گیا۔ سکیورٹی اہلکار ہمارا مذاق اڑاتے رہے کہ "آپ لوگ کیسے پہنچیں گے ” ہم نے کہا آپ گاڑیوں کو روک سکتے ہیں مگر ہم پیدل جائیں گے اور آپ ہمیں نہیں روک سکتے۔ خواتین پر اس طرح ظلم شرم کی بات ہے۔ہمیں اپنی حفاظت کے لیے پاکستانی فوج کی ضرورت نہیں۔ ہم اپنا وطن چھوڑ کر پاکستانی فوج کے حوالے نہیں کرینگے۔

واضح رہے کہ بانک کریمہ بلوچ کی جسد خاکی کی بے حرمتی اور اسے اسلامی اور بلوچ قومی روایات کے ساتھ افتادگان خاک نہ کرنے دینے اور قوم کو اپنی قومی رہنما کی دیدار نہ کرنے دینے کے خلاف پاکستانی فوج کے خلاف بلوچ قوم میں سخت غصہ پھایا جا رہا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment