سماجی کارکن جلیلہ حیدر نے اپنا انٹرنیشنل ویمن کوریج ایوارڈ واپس کردیا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

مقبوضہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی معروف انسانی حقوق کی وکیل اور کارکن جلیلہ حیدر نے امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے دیئے جانے والی انٹرنیشنل ویمن کوریج (آئی ڈبلیو او سی) ایوارڈ کو احتجاجاً واپس کردیا۔

جلیلہ حیدر کو یہ ایوارڈ گذشتہ سال دیا گیا۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کیجانب سے پاکستان کے علاوہ افغانستان، ارمینیا، آذربائیجان، بولیویا، برکینا فاسو، چین، ملائیشیا، نیکارا گوا، شام، یمن اور زمبابوے سے غیرمعمولی خدمات انجام دینے والی خواتین کو ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔
ایوارڈ واپسی کے حوالے سے جلیلہ حیدر نے سماجی رابطوں کی سائٹ پر لکھا کہ میں نے اپنا امریکی ایوارڈ واپس کردیا اب امید ہے کہ جو جو لوگ بے پناہ تیر اندازیوں میں مصروف تھے، تنقید کر رہے تھے وہ میرے قوم ہزارہ کے قتل عام کو روکنے میں اپنا عملی کردار ادا کریں گے بجائے فیس بک پر دانشورانہ تجزئے اور آرٹیکلز لکھنے کے۔

انہوں نے بیرون ممالک لوگوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ باہر ملکوں میں بیٹھے ہیں پاکستان جاکر انقلاب کی تیاری کریں گے اور سامراج کو لوہے کے چنے چبوائیں گے۔ ہم نے اپنا کردار ادا کیا اب آپ لوگ اپنا کردار ادا کر کے دکھاو اور مجھے بتاو کہ آپ کے پاس میرے نسل کشی روکنے کے لئے کیا پروگرام ہے؟ چلو وہ تو سامراج ہے، چلو مان لیا وہی قاتل ہے۔ اب جو جو سامراجیوں کے سکالرشپوں پر ہے سب پاکستان لوٹ کر میرے 5 لاکھ آبادی کے مستقل تحفظ کے لئے پروگرام پیش کریں گے۔

خیال رہے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ کے ایوارڈ کے لیے جلیلہ حیدر کو انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے پر اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ جلیلہ حیدر غربت سے متاثرہ خواتین کو مفت قانونی معاونت فراہم کرتی ہیں اور ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی پہلی وکیل ہے اور انہوں نے اپنی برادری کے افراد پر ہدفی حملوں کے خلاف مہم چلائی اور بھوک ہڑتال کی قیادت کی۔

Share This Article
Leave a Comment