کریمہ بلوچ تاریکی کے خلاف لڑتے لڑتےماری گئی,ذولفقار ذلفی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ احتجاج نہ کریں ـ سوگ نہ منائیں ـ بانک کے خلاف بھونکنے والے پاکستانیوں کو جواب نہ دیں ـ اس قتل سے پاکستانی اداروں کو بری الذمہ قرار دینے والے پاکستانی "دانش وروں” سے بحث نہ کریں ـ

یہ سب کرنے سے یہ صدمہ، یہ دکھ اور دل کا غبار ہلکا ہوجائے گا ـ خود کو ہلکا نہ ہونے دیں ـ اس پہاڑ جیسے دکھ کو اپنے اندر رہنے دیں ـ اس دکھ کو خاموشی سے پالتے رہیں ـ اس وقت تک پالتے رہیں جب تک لاوا نہ بن جائے ـ زہر بن کر آپ کے لہو میں دوڑنے لگ جائے ـ اس وقت تک پالتے رہیں جب تک آپ کی ہڈیوں کے گودے تک میں نفرت سرایت نہ کرجائے ـ

تحقیقات اور تفتیش کے بہکاوے میں نہ آئیں ـ مطمئن رہیں یہ ٹارگٹ کلنگ بھی "حادثاتی موت” کے نام سے داخل دفتر ہوجائے گی ـ ہم جانتے ہیں ان کو ہمارے دشمن نے قتل کیا ہے، جب ہم جانتے ہیں تو کسی تحقیق کا انتظار کیوں؟ خود کو بہلانے اور طاقت وروں کے قانون سے امیدیں کیوں؟ ـ ایسی ہر فضول امید کو دل سے کھرچ کر پھینک دیں ـ

کریمہ بلوچ "تاریک راہوں میں نہیں ماری گئی” بلکہ وہ تاریکی کے خلاف لڑتے لڑتے، ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو تاریکی سے نکال کر روشن دنیا تک پہنچانے کی جنگ میں فدا ہوئیں ـ انہیں تاریک راہوں میں مارے جانے والوں میں شمار نہ کریں ـ وہ جانتی تھی جو راستہ انہوں نے چنا ہے اس میں غیر طبعی موت یقینی ہے پھر بھی وہ شعوری طور پر چلتی رہیں ـ وہ تاریک شب میں ایک جگنو جیسی تھی ـ روشنی کا پیغامبر ـ بقول مبارک قاضی:

بلوچ تہاری ءَ گوں جنگ کنت مدام چوں چراغے ءَ

یہ ایک جنگ ہے ـ اعصاب شکن جنگ ـ دشمن عیار ہے، بھیس بدل کر آئے گا، نئے نئے ناموں سے، مختلف شکلیں لے کر، قسم قسم کے نظریے لے کر، بھانت بھانت کے حربے لے کر ـ دشمن وہاں وار کرے گا جو کسی کے گمان میں بھی نہ ہوگا، جیسے کریمہ و ساجد ـ ہوشیار رہیں اور ہر صدمے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں ـ دشمن سمجھتا ہے ہم ٹوٹ جائیں گے، مایوس ہوجائیں گے، رحم کی بھیک مانگیں گے ـ اس کی اس امید کو خاک میں ملادیں ـ

Share This Article
Leave a Comment