پاکستان میں بغاوت کے قانون میں ترمیم کیلئے بل سینیٹ میں پیش کردیاگیا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے نجی اراکین کا بل سینٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرادیا جس میں برطانوی نوآبادیاتی دور کے ملک میں بغاوت کے قانون، پاکستان پینل کوڈ 1860 کے سیکشن 124-اے میں ترمیم کرنے کا کہا گیا ہے۔

میڈیارپورٹوں کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما کی جانب سے پیش کردہ بل میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 124-اے پاکستان کو وراثت میں ملنے والے نوآبادیاتی ڈھانچے کا حصہ ہے جو اب بھی جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ حصہ ان مقامی افراد کے لیے تھا جنہیں قابو میں رکھنا تھا تاکہ وہ آقاو¿ں کے خلاف بغاوت پر نہ اکسائیں’۔

انہوں نے کاہ کہ ‘اس قانون نے ایک ظالمانہ قبضہ کرنے والی طاقت کی حیثیت سے کام کیا اور آج اسے ریگولیرٹی بڑھاتے ہوئے سیاسی اختلاف رائے کو کچلنے اور شہریوں کو بغیر کسی سوال کے اپنے تابع کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے’۔

بل میں کہا گیا کہ ‘آج حکمرانوں اور قانون کے مابین تعلقات اب کسی آقا اور غلام جیسے نہیں ہیں، حکومت کے لیے احترام کو ریگولیٹ نہیں کیا جاسکتا، یہ انفرادی آزادی کے لیے ریاستی احترام اور حکومت کرنے کی صلاحیت سے پیدا ہوتا ہے’۔

مبصرین کا خیال ہے کہ دفعہ 124-اے جمہوریت میں ناقابل قبول ہے اور آئینی طور پر یہ آزادی اظہار رائے کی پر پابندی کے ذمرے میں آتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ متحرک جمہوریت میں حکومت پر عدم اعتماد اور تنقید مضبوط عوامی مباحثے کا لازمی جزو ہیں اور اسے بغاوت کے طور پر نہیں بنایا جانا چاہیے۔

پاکستان پینل کوڈ نے بغاوت کو ایک ایسا فعل بتایا ہے جو حکومت کے خلاف ‘نفرت یا حقارت لانے یا اس کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کرتا ہے، یہ ایسا جرم ہے جس کے لیے ملزم کو عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے’۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈین پینل کوڈ میں بھی یہ شق موجود ہے۔

یہ قانون پیش کرنے والے انگریزوں نے خود ہی اپنے ملک میں اس قانون کو ختم کردیا ہے۔

نجی اراکین کا بل قانون سازی کا ایک ایسا حصہ ہے جسے کوئی بھی رکن یا سینیٹ کے اراکین کا ایک گروہ خود کے لیے اہمیت کے حامل مسئلے پر پیش کرسکتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment