بیرونی سفارتی مشنز کو بلوچ مارچ ولاپتا افراد معاملات میں مداخلت کا حق نہیں، پاکستان

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کے ترجمان دفترخارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان مارچ اور لاپتا افراد کا مسئلہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، پاکستان میں موجود بیرونی سفارتخانوں اور مشن کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے اندرونی معاملات کو بخوبی حل کرسکتا ہے۔

یاد رہے کہ 21 دسمبر کو بلوچ نسل کشی وجبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچ خواتین کی قیادت میں دارالحکومت اسلام آباد پہنچنے والے لانگ مارچ میں شرکا کے خلاف اسلام آباد پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے تمام بلوچ مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔

23 دسمبر کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے بلوچ لانگ مارچ کے 162 گرفتار افراد کی ضمانتیں منظور کرلی تھیں۔

گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلوچ مظاہرین کی گرفتاریوں اور احتجاج کا حق دینے سے روکنے کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے بتایا تھا کہ لاپتا بلوچ رہنما ظہیر بلوچ اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں، ان کی ضمانت ہو چکی ہے لیکن ضمانتی مچلکے جمع نہیں ہوئے جبکہ عدالت نے 34 مظاہرین کی شناخت پریڈ کرانے کا حکم دے دیا تھا۔

واضع رہے کہ اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے سامنے جاری احتجاجی مظاہرین کاکہنا ہے کہ بیرونی سفارتخانے و مشن سمیت اقوام متحدہ مشن کی موجودگی میں بلوچستان میں دو دہائیوں سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جاری بلوچ نسل کشی اور جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو حل کیا جائے۔

Share This Article
Leave a Comment