بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے دورہ پاکستان کا پہلا دن ہی مایوس کن تھا۔ ساری تحفظات کے باجود محکوم اور مظلوم قوموں کے دل میں کہیں نہ کہیں ایک امید تھی کہ پاکستان کے افواج، خفیہ اداروں اور فوج کی سرپرستی میں قائم مسلح مذہبی دہشت گرد تنظیموں کے مظالم کو دیکھ کر انتونیو گوتریس اپنے فرائض منصبی کے کچھ نہ کچھ تقاضے پورا کریں گے۔ لیکن ہمار ی تحفظات اور شک حقیقت ثابت ہوئے جب انہوں نے افغانستان کشت و خون اور تباہی میں پاکستان کی کردار و مداخلت کی نظر انداز کرکے افغان مہاجرین کی مہمان نوازی پر داد بخشی و تعریف کے پھول برسائے۔ حالانکہ افغان مہاجرین کا بوجھ پاکستان پر نہیں بلکہ بلوچ اور پشتون قوموں پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے شیطانی منصوبوں کی تکمیل کے لئے افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کا کریڈٹ لینے کی کوشش ضرور کرتا ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ پاکستان نے بہتر انداز میں مہمان نوازی کی ہے تو اسامہ بن لادن، خالد شیخ محمد‘ ابوزبیدہ‘ رمزی بن الشیبہ کراچی، ابوفراج اللیبی، حافظ سعید، مولانا مسعود اظہر، داؤد ابراہیم اور احسان اللہ احسان جیسے دہشت گردوں کی ہے۔ ہزاروں لوگوں کے قاتل احسان اللہ احسان کو فوجی مہمان نوازی میں رکھنے کے بعد خاندان سمیت جیل سے بھاگنے کا ڈرامہ رچاکر آزاد کیا گیا تاکہ پاکستان کی دہشت گردی نواز پالیسیوں کو نئی حکمت عملی کے تحت عملی جامہ پہنایا جاسکے۔ لیکن ریکارڈ پر موجو د ایسے ہزاروں واقعات سے نظر انداز کرکے نہ صرف مظلوم قوموں پر پاکستان کے جرائم پر پردہ پوشی ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی کاوشوں اور قربانیوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کیلئے اس طرح کی تعریف و ثنا سمجھ سے بالاتر اور حقائق کے یکسر خلاف ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ممالک پاکستان کی دوغلی پالیسیوں پر کھل کر بول چکے ہیں۔ امریکی کانگریس اور انتظامیہ واشگاف الفاظ میں پاکستان کے مشکوک کردار پر پاکستان پر پابندی اور اپنی امداد بھی مشروط کرچکے ہیں۔ پاکستان اگر جنگ میں ایک مخلص پارٹنر ہوتا تو امریکہ کو تواتر کے ساتھ ڈرون حملوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے دہشت گردوں کی جو فہرست جاری کی ہے اس میں پاکستان کے 139 گروپ اور افراد نام شامل ہیں۔ عالمی دباؤ اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہونے کے بعد پاکستان نے مجبورا چند اقدامات اٹھائے۔ ان میں حافظ سعید کی نظربندی قابل ذکر ہے لیکن کسی کو یقین نہیں کہ اس پر عملدرامد کیا جائے گا یا نہیں۔ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس قریب ہوتے ہی پاکستان دکھاوے کے لئے چند اقدام ضرور اٹھاتا ہے۔ عام اوقات میں پاکستان اپنے اصل منصوبوں پر عمل درآمد کرتا رہتا ہے۔ جس طرح چند دنوں یہ چہ خبریں مل رہی ہیں کہ مولانا مسعود اظہر لاپتہ ہیں۔ کشمیر پلوامہ حملے سمیت ایسے ہزاروں واقعات کے ذمہ دار دہشت گردوں کی جنت پاکستان کے علاوہ کہیں بھی نہیں ہیں۔
چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ غربت کے خاتمے پر گوتریس صاحب کا موقف کروڑوں لوگوں کے ساتھ مذاق ہے جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں، بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ وسائل سے مالا مال مقبوضہ بلوچستان سے ستر سالوں سے کھربوں روپوں کی وسائل لوٹے جا رہے ہیں لیکن یہاں اکثریتی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی بسر کر رہی ہے۔ ایٹمی تابکاری کی وجہ سے ہر سال کینسر کے بارہ ہزار کیس رجسٹر ہو رہے ہیں جبکہ ہر سال آٹھ ہزار افراد بلوچستان میں ہزارخونی سڑک حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ پولیو کے خلاف مہم کے نام پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے سالانہ کڑوڑوں ڈالر وصول کرکے انہیں وزرا کی اور بیوروکریٹس کی جیبوں میں ڈالا جاتا ہے اور پولیو کے کیسز بدستور سامنے آرہے ہیں۔ بی این ایم چیئرمین نے کہا کہ اسلاموفوبیا اور عدم برداشت پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا موقف بھی واضح نہیں تھا جو ایک اعلیٰ عہدیدار کے لئے انتہائی نامناسب ہے۔اقلیتی مذاہب کے لڑکیوں کو تبدیلی مذہب پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس ظلم سے تنگ آکر لاکھوں ہندو اور دیگر اقلیت اپنے اپنے جنم بھومی چھوڑ کر ہندوستان چلے گئے ہیں۔ انہیں آسیہ بی بی سمیت ہزاروں عیسائیوں اور ہندوؤں پر ستم و مظالم کو مد نظر رکھ کر بات کرنا چاہئے تھا۔ یہ چیزیں موصوف کی علم میں نہیں تو یہ ایک نہایت ہی خطرناک بات ہے۔ اگر اس کی علم میں ہیں اور وہ بات کرنے سے قاصر ہے تو یہ اس سے کئی گنا زیادہ خطرناک اور ان کے منصب کے ساتھ ناانصافی ہے۔ جس طرح عالمی برادری پاکستان کی اسلامائزیشن اور طالبانائزیشن کی پالیسی کے سامنے بے بس اور بلیک میل دکھائی دیا، اسی طرح کا پوزیشن انتونیو گوتریس کا ہوسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کا سیکریٹری جنرل ان چیزوں میں الجھے تو نہ صرف ہم محکوم اور مقبوضہ قوموں بلکہ یہ پوری دنیا کیلئے ایک خطرے کی علامت ہوگی۔
سیکریٹری جنرل کا دروہ پاکستان: پہلا دن مظلوم قوموں کیلئے نہایت مایوس کن تھا۔ چیئرمین خلیل بلوچ
Leave a Comment
Leave a Comment