آذربائیجان اور ارمینیا مابین جھڑپوں کے بعد مارشل لا نافذ، فوجیں متحرک

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ناگورنو قرہباخ کے متنازع خطے میں جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں جس میں کم از کم 23 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ آرمینیا نے مارشل لا نافذ کرتے ہوئے اپنی افواج کو متحرک کر دیا ہے۔

جھڑپیں شروع ہونے کے بعد آذربائیجان کے صدر الہام علیئف نے کہا کہ وہ اس خطے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پراعتماد ہیں تاہم آذربائیجان کے کچھ علاقوں میں بھی مارشل لا کا اعلان کیا گیا ہے۔

آرمینیا نے آذربائیجان پر فضائی اور توپ خانوں سے حملوں کا الزام لگاتے ہوئے آذربائیجان کے ہیلی کاپٹر گرانے اور ٹینک تباہ کرنے کی اطلاعات دی ہیں جبکہ آذربائیجان نے کہا ہے کہ اس نے گولہ باری کے جواب میں کارروائی شروع کی۔

واضح رہے کہ ناگورنو قرہباخ کا خطہ بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا تسلیم شدہ حصہ ہے لیکن سنہ 1994 میں ختم ہونے والی جنگ کے بعد سے اس کا کنٹرول نسلی آرمینیائی باشندوں کے پاس ہے۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان سنہ 1980 کی دہائی کے آخر میں لڑائی شروع ہوئی تھی جو کہ سنہ 1991 میں مکمل جنگ کی شکل اختیار کر گئی تھی۔ سنہ 1994 میں ہونے والی جنگ بندی سے پہلے اس لڑائی میں ایک اندازے کے مطابق 30,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جھڑپیں شروع ہونے کے بعد آذربائیجان کے صدر الہام علیئف نے کہا کہ وہ اس خطے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پراعتماد ہیں

اتوار کے روز ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اس نئے بحران میں آذربائیجان کی حمایت کا وعدہ کیا جبکہ روایتی طور پر آرمینیا کے اتحادی کے طور پر دیکھے جانے والے روس نے فوری طور پر جنگ بندی اور صورتحال کو مستحکم کرنے کے لیے بات چیت کا مطالبہ کیا۔

فرانس جہاں آرمینیائی باشندوں کی ایک بڑی کمیونٹی موجود ہے، نے فوری طور پر جنگ بندی اور بات چیت کا مطالبہ کیا جبکہ ایران نے امن مذاکرات کی پیشکش کی۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ آرمینیا علاقائی امن و امان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

آرمینیا کی وزارت دفاع نے آذربائیجان پر متنازع علاقے میں آباد عام لوگوں کی بستیوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

حکام کے مطابق ایک خاتون اور ایک بچہ ہلاک ہو گئے ہیں۔ ناگورنو قرہباخ میں علیحدگی پسند حکام نے بتایا کہ ان کے 16 فوجی ہلاک جبکہ 100 زخمی ہوئے ہیں۔

آرمینیا کے وزیراعظم نکول پاشنان نے آذربائیجان پر جارحیت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنے عظیم وطن کے دفاع کے لیے تیار ہو جائیں۔‘

انھوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ ایک ’بڑے پیمانے پر جنگ‘ کے دہانے پر ہے۔ وزیراعظم نکول پاشنان نے ترکی پر ’جارحانہ طرز عمل‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مزید عدم استحکام کو روکنے کے لیے متحد ہو جائیں۔

آزربائیجان کے استغاثہ کے مطابق آذربائیجان کے ایک گاو¿ں پر آرمینیا کی گولہ باری سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

آذربائیجان کی وزارت دفاع نے ایک ہیلی کاپٹر کے گرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں عملہ محفوظ رہا ہے تاہم ارمینیا کے رپورٹ کردہ دوسرے نقصانات کی تردید کی ہے۔ آذربائیجان کی وزارت دفاع نے آرمینیا کے 12 فضائی دفاعی نظام تباہ ہونے کی بھی اطلاعات دی ہیں۔

آذربائیجان کے صدر الہام علیئف نے کہا ہے کہ انھوں نے آرمینیائی فوج کے حملوں کے جواب میں بڑے پیمانے پر کارروائی کا حکم دیا ہے۔

ٹیلی ویڑن پر نشر کیے گئے ان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جوابی کارروائی کے نتیجے میں آذربائیجان کے متعدد رہائشی علاقوں کو، جنھیں قبضے میں لیا گیا تھا، آزاد کرا لیا گیا ہے۔‘

’مجھے یقین ہے کہ ہماری کامیاب جوابی کارروائی اس ناانصافی اور 30 سالہ طویل قبضے کو ختم کر دے گی۔‘

دوسری جانب آرمینیا کی وزارت دفاع نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ کوئی گاو¿ں ان کے قبضے سے چلا گیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment