بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں تربت سول سوسائٹی کے ترجمان نے بالیچاہ کے پہاڑی علاقے لتھم پکنک پوائنٹ پر چار مقامی نوجوانوں کو ڈرون حملے میں نشانہ بنا کر ہلاک کرنے اور ان کے دو ساتھیوں کو گرفتار کیے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ترجمان نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی کے ذریعے غیر جانب دار، صاف اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ مقامی ذرائع اور متاثرہ خاندانوں کے متفقہ موقف کے مطابق نوجوانوں نے پکنک پوائنٹ پر جانے سے قبل حسبِ روایت وہاں موجود سیکیورٹی حکام کو نہ صرف اپنے جانے کی اطلاع دی تھی بلکہ اپنے ساتھ لے جانے والے تمام سامان اور اوزار کی تفصیلات بھی فراہم کی تھیں۔
ترجمان کے مطابق بعد ازاں گرفتار ہو کر رہا ہونے والے نوجوانوں نے بھی بتایا کہ جہاں جہاں موبائل نیٹ ورک کی سہولت دستیاب ہوتی، وہ سیکیورٹی حکام کو اپنے مقام سے متعلق باقاعدگی سے اطلاع دیتے رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان نوجوانوں کو مبینہ طور پر بغیر کسی وجہ اور سبب کے پکنک کے دوران ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا تیار کرنے والے چار نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جب کہ دو دیگر نوجوان کچھ فاصلے پر ہونے اور نماز کی تیاری میں مصروف ہونے کے باعث معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ بعد ازاں دونوں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور دو روز تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا گیا۔
ترجمان نے الزام عائد کیا کہ دستیاب شواہد، مقامی لوگوں کی آرا اور بچ جانے والے دونوں نوجوانوں کے بیانات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ چاروں نوجوانوں کو پکنک کے دوران بلاجواز ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد دونوں بچ جانے والے نوجوانوں کو بھی گرفتار کرکے بلاجواز دو روز تک حراست میں رکھا گیا اور پھر رہا کردیا گیا۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ نوجوانوں کو ہلاک اور گرفتار کرنے کے بعد ان کی لاشوں کے قریب اسلحہ اور گولہ بارود رکھ کر انہیں دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی گئی جو انتہائی افسوس ناک اور واقعے کی اصل حقیقت کو چھپانے کی غیر قانونی کوشش ہے۔
ترجمان نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل، غیر جانب دار، صاف اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی فرد یا ادارے کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داران کے خلاف آئین و قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے اور کسی بھی ممکنہ غلطی یا غیر قانونی اقدام کا منفی اثر عوامی سطح پر ریاستی اداروں کے بارے میں اعتماد کو متاثر نہ کرے۔