بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ پسماندگی نہیں بلکہ ’غلط بیانیہ‘ ہے۔ سیاسی قوتوں سے حل کے لیے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، تاہم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔
پیر کے روز لاہور میں نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کے حالات، مسائل اور تاریخ کو حقائق اور درست تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ غلط بیانیے کی بنیاد پر صوبے کی صورتحال کا درست تجزیہ ممکن نہیں۔
وزیراعلیٰ نے افسر شاہی کی روش پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پنجاب سے بعض بیوروکریٹس بلوچستان آکر خدمات انجام دینا پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک افسران گراؤنڈ پر آکر حالات کا مشاہدہ نہیں کریں گے، انہیں زمینی حقائق کا علم کیسے ہوگا؟ پالیسی سازی اور انتظامی فیصلوں کے لیے مقامی حالات اور عوامی ضروریات کو سامنے رکھنا ہو گا۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں آزادی پسند مسلح تنظیموں کے مہلک حملوں کی پاداش میں پنجاب سے بیوروکریسی اپنی جگہ عام مزدور بھی اب بلوچستان کا رخ کرنے سے کتراتے ہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ پسماندگی پاکستان کے ہر صوبے میں موجود ہے، لیکن اس بنیاد پر کہیں بھی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے یا ریاست کو ختم کرنے کی بات نہیں کی جاتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کو توڑنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا اور آئین کا آرٹیکل 5 ہر شہری سے ریاست کے ساتھ غیر مشروط وفاداری کا تقاضا کرتا ہے۔
الحاقِ بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاریخی حقائق کو مسخ کیا جاتا ہے۔ خان آف قلات نے اپنی کتاب میں خود لکھا ہے کہ بلوچستان کا الحاق ان کی رضامندی سے ہوا تھا۔ بلوچستان کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے اصل ماخذ کا مطالعہ ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریاست اور نوجوان نسل کے مابین خلیج اور فاصلوں کو کم کرنے کے لیے حکومت ہر سطح پر اپنے نوجوانوں کو سن رہی ہے اور ان سے رابطے میں ہے۔