کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن کی جوسک اور منگوچر میں پاکستانی فوج پر حملوں کی پہلی ویڈیو جاری

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے نو تشکیل شدہ خواتین عسکری یونٹ ‘کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن’ (KAAD) کے جنگجوؤں کی جوسک اور منگوچر میں پاکستانی فوج پر کیے گئے حملوں کی پہلی باقاعدہ ویڈیو جاری کر دی گئی ہے۔

اس سے قبل ‘کاڈ’ (KAAD) یونٹ کی تربیتی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں بڑی تعداد میں بلوچ خواتین کو عسکری تربیت حاصل کرتے دکھایا گیا تھا، تاہم یہ پہلی ویڈیو ہے جس میں خواتین جنگجو براہِ راست جنگی کارروائی میں حصہ لیتی نظر آ رہی ہیں۔

جاری کردہ ویڈیو میں تربت کے علاقے جوسک اور قلات کے علاقے منگوچر میں ‘کاڈ’ یونٹ کی خواتین جنگجو اپنے ساتھی ‘قربان یونٹ’ کے مرد سرمچاروں کے شانہ بشانہ ناکہ بندی، اسنیپ چیکنگ اور فوج کے قافلوں پر سڑک کے درمیانی فاصلے سے آمنے سامنے شدید حملہ کرتی نظر آتی ہیں۔

ویڈیو میں مرد سرمچاروں اورخواتین جنگجوؤں کو بلا خوف و خطر اور دیدہ دلیری کے ساتھ فوج کی گاڑیوں کے بالکل قریب آ کر جدید بھاری و خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

بی ایل ایف کے مطابق کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (KAAD) نے تربت کے علاقے جوسک میں سی پیک (CPEC) ہائی وے اور قلات کے شہر منگوچر میں کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ (RCD Highway) پر دو بڑے آپریشنز کو انجام دیا۔

سی پیک ہائی وے پر پاکستانی فوج کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں فورسز کے 6 اہلکار موقع پر ہی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

کوئٹہ-کراچی ہائی وے پر ناکہ بندی کے دوران پیش قدمی کرنے والی فورسز پر حملہ کیا گیا جس میں 2 اہلکار ہلاک ہوئے۔ بعد ازاں، جنگجوؤں کا گھیراؤ کرنے کے لیے باغات کی طرف پیش قدمی کرنے والے اہلکاروں پر کیے گئے دوسرے حملے میں مزید 1 اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔

ویڈیو کے اختتامی حصے میں ‘کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن’ کی ایک خاتون جنگجو کمانڈر ایک اور خاتون جنگجو کے ساتھ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی نظر آتی ہے اور بلوچ عوام کے نام ایک تفصیلی ویڈیو پیغام دیتی ہے۔

خاتون کمانڈر اپنے پیغام میں کہتی ہیں:
"جنگ اب ہم پر فرض بن چکی ہے”، ہم نے بہت غلامی برداشت کی ہے اور اب اس غلامی کے خاتمے کے لیے ہر حال میں جدوجہد کرنا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مرد اور عورت کے فرق کو ختم کر دیا ہے اور اس فرق کو مٹانا موجودہ حالات میں انتہائی لازمی تھا۔

بلوچ عوام کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "کوشش کریں کہ غلامی کی گالی کا جو لفظ ہم پر لگا ہوا ہے اسے ختم کریں۔ ہمارے بہن بھائی سڑکوں پر در بدر کی ٹھوکریں کھا کر ذلیل و خوار ہو چکے ہیں۔ ہمارے متعدد لوگ گھروں اور بستیوں سے جبری لاپتہ کیے گئے لیکن کسی نے بھی ہمارے لیے کچھ نہیں کیا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اب یہ حقیقت اچھی طرح جان چکے ہیں کہ اس جدوجہد کو ہمیں خود آگے بڑھانا ہے۔ بات اور سیاست بھی کرنا ہے اور بندوق بھی استعمال کرنا ہے۔ جتنی بھی ہم پر ظلم و جبر ہوئی ہے، اب اس کے آگے بند باندھنا ہو گا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article