کیچ: 25 سالہ ہانی بلوچ اور ان کی کمسن بیٹی عائشہ بلوچ جبری لاپتہ ، بی ڈبلیو ایف کی تصدیق

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے سامی سے پاکستانی فوج اور مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے گزشتہ رات 25 سالہ ہانی بلوچ اور ان کی کمسن بیٹی عائشہ بلوچ کو ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد سے دونوں کی لوکیشن اور حالت کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

اس واقعے کی تصدیق بلوچ وومن فورم نے اپنے ایک پریس میں کی ہے۔

بلوچ وومن فورم نے کہا ہے کہ بلوچستان میں خواتین اور بچوں کی جبری گمشدگیاں نوآبادیاتی تسلط اور اجتماعی سزا کا حصہ ہیں۔ ایک ماں اور معصوم بچے کو گھر سے اٹھا کر غائب کرنے کا مقصد پورے خاندان اور معاشرے کو خوف اور غیر یقینی کی صورتحال میں مبتلا کرنا ہے۔

فورم نے واضح کیا کہ جبری طور پر لاپتہ افراد کو کیمروں کے سامنے لاکر یا دباؤ کے تحت بیانات دلوا کر صورتحال کو نارمل دکھانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ دباؤ اور تشدد کے تحت لیا گیا کوئی بھی بیان یا پیشی آزادیِ اظہار نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس سے جبری گمشدگی کی تلخ حقیقت کو چھپایا جا سکتا ہے۔

بلوچ وومن فورم نے مطالبہ کیا ہے کہ ہانی بلوچ اور ان کی کمسن بیٹی عائشہ بلوچ کو من گھڑت بیانیوں کی نذر نہ کیا جائے، ان کی موجودگی کا فوری انکشاف کیا جائے، ان کی قانون حالت واضح کی جائے اور انہیں فوراً باحفاظت رہا کیا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article