بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے سامی سے پاکستانی فوج اور مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے گزشتہ رات 25 سالہ ہانی بلوچ اور ان کی کمسن بیٹی عائشہ بلوچ کو ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد سے دونوں کی لوکیشن اور حالت کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
اس واقعے کی تصدیق بلوچ وومن فورم نے اپنے ایک پریس میں کی ہے۔
بلوچ وومن فورم نے کہا ہے کہ بلوچستان میں خواتین اور بچوں کی جبری گمشدگیاں نوآبادیاتی تسلط اور اجتماعی سزا کا حصہ ہیں۔ ایک ماں اور معصوم بچے کو گھر سے اٹھا کر غائب کرنے کا مقصد پورے خاندان اور معاشرے کو خوف اور غیر یقینی کی صورتحال میں مبتلا کرنا ہے۔
فورم نے واضح کیا کہ جبری طور پر لاپتہ افراد کو کیمروں کے سامنے لاکر یا دباؤ کے تحت بیانات دلوا کر صورتحال کو نارمل دکھانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ دباؤ اور تشدد کے تحت لیا گیا کوئی بھی بیان یا پیشی آزادیِ اظہار نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس سے جبری گمشدگی کی تلخ حقیقت کو چھپایا جا سکتا ہے۔
بلوچ وومن فورم نے مطالبہ کیا ہے کہ ہانی بلوچ اور ان کی کمسن بیٹی عائشہ بلوچ کو من گھڑت بیانیوں کی نذر نہ کیا جائے، ان کی موجودگی کا فوری انکشاف کیا جائے، ان کی قانون حالت واضح کی جائے اور انہیں فوراً باحفاظت رہا کیا جائے۔