بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے 25 ستمبر 2026 کو ضلع کیچ کی تحصیل تمپ، بالیچاہ کے علاقے "لوتھم” میں عام شہریوں پر پاکستانی فوج کے ڈرون حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تفصیلات جاری کی ہیں۔
بی وائی سی کے مطابق اس حملے میں 4 عام شہری سمیر ولد عبدالخالق، یاسر ولد محمد کریم، زبیر ولد نواب، اور دیدگ ولد محمد عمرہلاک ہوئے ہیں۔
بی وائی سی کے مطابق تمام مقتولین کیچ اور تمپ کے سرحدی علاقوں میں محنت مزدوری کر کے اپنے خاندانوں کا پیٹ پالتے تھے۔ واقعے کے روز یہ نوجوان تفریح اور پکنک کے لیے پہاڑی علاقے میں گئے تھے۔ علاقے کے مروجہ فوجی قوانین اور احکامات کے تحت، انہوں نے پکنک پر جانے سے قبل باقاعدہ طور پر مقامی ملٹری حکام کو اپنی آمد و رفت اور لوکیشن کے بارے میں اطلاع دی تھی۔ اس کے باوجود، جب وہ پکنک پوائنٹ پر موجود تھے تو ڈرون کے ذریعے ان پر براہِ راست بمباری کی گئی۔
ہلاک نوجوانوں کی شناخت سمیر ولد عبدالخالق (ساکن بالیچاہ، تمپ)،یاسر ولد محمد کریم (ساکن بالیچاہ، تمپ)،زبیر ولد نواب (ساکن بالیچاہ، تمپ) اور دیدگ ولد محمد عمر (ساکن رئیس آباد، تمپ) کے ناموں سے ہو گئی ہے ۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ حملہ کسی غلط فہمی یا "کراس فائر” کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ ریاست کی جانب سے باقاعدہ اور منظم نسل کشی (Systematic Genocide) کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ جب شہریوں کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ہر نقل و حرکت کی رپورٹ فورسز کو دیں اور پھر اسی اطلاع کا استعمال کرتے ہوئے انہی پر ڈرون حملے کیے جائیں، تو یہ واضح کرتا ہے کہ ریاست کے نزدیک کسی بلوچ شہری کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ: بی وائی سی نے اقوامِ متحدہ (UN)، بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں معصوم شہریوں پر ہونے والے فضائی و ڈرون حملوں پر اپنی خاموشی توڑیں۔ تنظیم نے اس واقعے کی شفاف اور آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستانی ریاست کو چاروں معصوم محنت کشوں کے قتل پر جوابدہ ٹھہرانے کا زور دیا ہے۔