بلوچستان کے مکران ڈویژن ضلع تمپ کے بالیچاہ کے علاقے "لوتھم” میں پکنک منانے کے لیے جانے والے عام شہریوں پر پاکستانی فوج کے ڈرون حملے کے نتیجے میں 4 نوجوان ہلاک ہو گئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق بالیچاہ کے رہائشی 6 افراد گزشتہ روز پکنک منانے کے لیے قریبی پہاڑی علاقے میں گئے تھے۔ آج دوپہر کے وقت جب 4 افراد ایک جگہ کھانا تیار کر رہے تھے جبکہ دیگر دو افراد شکار کے لیے گئے ہوئے تھے، تو فورسز نے ڈرون کے ذریعے انہیں براہِ راست نشانہ بنایا۔
حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت یاسر ولد محمد کریم (ساکن بالیچاہ)، زبیر ولد نواب (وائس چیئرمین یونین کونسل کلگ تگران)، سمیر ولد عبدالخالق (ساکن بالیچاہ) اور دیدگ ولد محمد عمر (ساکن بالیچاہ)کے ناموں سے ہوگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد معروف سیاسی و سماجی شخصیت اور ‘بلوچی میوزک پروموٹرز سوسائٹی کے سربراہ خلیل تگرانی کے قریبی عزیز تھے، جبکہ زبیر ولد نواب علاقائی بلدیاتی نمائندے اور یونین کونسل کلگ تگران کے وائس چیئرمین تھے۔
واقعے کے فوراً بعد ایف سی نے موقع پر پہنچ کر چاروں افراد کی لاشوں کو اپنے قبضہ و تحویل میں لے لیا ہے۔
انسانی حقوق کے حلقوں اور مقامی لوگوں نے پکنک پر گئے نہتے شہریوں پر ڈرون حملے کو سنگین جنگی جرم قرار دیا ہے۔
دوسری جانب واقعے اور لاشوں کی تحویل کے حوالے سے سرکاری سطح پر تاحال کوئی وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔