بلوچستان میں ایک جانب فورسز کی جانب سے شہریوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب مسلح افراد کے ہاتھوں اغواء ہونے والے انتظامی و پولیس اہلکاروں کی بازیابی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، ضلع مستونگ کے علاقے کلی سراوان ٹاؤن پاڑا سے 17 سالہ طالب علم ریاض بلوچ ولد ستار بلوچ کو فورسز (ISI/CTD) نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ریاض بلوچ کو 17 اگست 2026ء کو رات کے 1:00 بجے ان کے گھر سے اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ مسلسل لاپتہ ہیں۔
لواحقین اور بی وائی سی نے نوجوان طالب علم کی فوری اور باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب نوشکی کے علاقے احمد وال سے دو روز قبل مسلح افراد کے ہاتھوں اغواء ہونے والے ایس ایچ او میر ماندا خان ماندائی باحفاظت بازیاب ہو گئے ہیں۔
خاندانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مسلح اغواء کاروں نے ایس ایچ او کو رہا کر دیا ہے اور وہ بحفاظت اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔
اسی طرح خاران-نوشکی شاہراہ سے اغواء کیے جانے والے ڈپٹی کمشنر خاران منیر سومرو کے محافظ یوسف فقیر اور ڈرائیور پیرک خان کو بھی مسلح افراد نے رہا کر دیا ہے۔
تاہم ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر خاران منیر سومرو اور ان کے ساتھ موجود ایک اور شخص تاحال مسلح اغوا کاروں کی حراست میں ہیں۔
یاد رہے کہ ڈپٹی کمشنر خاران اپنے محافظ اور ڈرائیور کے ہمراہ شاہراہ پر سفر کر رہے تھے کہ مسلح افراد نے انہیں گاڑی سمیت اغواء کر لیا تھا۔