بلوچستان میں اجتماعی سزا کا سلسلہ تیز، دالبندین میں مکان مسمار، تربت میں گھر نذرِ آتش

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج اورریاستی ڈیتھ اسکواڈز کی جانب سے شہریوں کی املاک، گھروں کی مسماری، آگ زنی اور لوٹ مار کی کارروائیوں میں شدید تیزی آ گئی ہے، جس نے عام لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چاغی کے ہیڈکوارٹر دالبندین میں پاکستانی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے رکن نور احمد نوتیزئی عرف شادین (ولد عبدالرب نوتیزئی) کے گھر کو بلڈوزر کے ذریعے مکمل طور پر مسمار کر دیا۔

موصول ہونے والی ویڈیو اور تصویری شواہد میں بلڈوزر کو مکان منہدم کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ نور احمد نوتیزئی رواں برس 31 اگست کو چاغی کے علاقے نوکچاہ میں فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران شہید ہو گئے تھے۔

دوسری جانب ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے متصل علاقے دیہات میں پاکستانی فوج نے آبادی پر چھاپہ مار کر چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق فائرنگ اور چھاپے کے دوران فورسز نے نہتے لوگوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور گھروں سے قیمتی سامان لوٹ کر اپنے ساتھ لے گئی۔

فورسز نے کارروائی کے دوران اکرام بلوچ نامی شہری کے گھر کو آگ لگا کر خاکستر کر دیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گھر کے دیگر سامان کے ساتھ ساتھ قرآنی نسخے اور مذہبی بائنڈنگز بھی آتشزدگی سے شدید متاثر اور جل چکی ہیں۔

بلوچستان میں فورسز کی جانب سے املاک کی مسماری اور آگ زنی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ یورپی یونین ایجنسی فار ایزالم (EUAA) کی 2026 کی خصوصی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں آپریشنز کے دوران سیاسی شخصیات اور عام شہریوں کے گھروں کو مسمار کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

رپورٹ میں ستمبر 2025 کے زہری آپریشن سے لے کر فروری 2026، نوشکی اور جون 2026 کے تمپ آپریشنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی املاک اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

اسی طرح جولائی 2026 میں جیونی کے علاقے پانوان میں بھی کارروائی کے دوران کم از کم سات مقامی رہائشیوں کے گھر مسمار کیے گئے، جن میں اپریل سے جبری لاپتہ علی اصغر کا گھر بھی شامل تھا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوج اور ڈیتھ اسکواڈز کی ان کارروائیوں کو "اجتماعی سزا” (Collective Punishment) قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جبری لاپتہ اور ہلاک افراد کے خاندانوں کو انتقامی کارروائیوں، ہراسانی اور گھروں کی تباہی کا نشانہ بنا کر مسلسل ذہنی ٹارچر دیا جا رہا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article