ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے پاکستانی فوج کی بلوچستان چھوڑنے اور مراعات کی پیشکشیں مسترد کر دیں

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں پرامن سیاسی آوازوں کو دبانے، جبری گمشدگیوں اور حالیہ عدالتی فیصلوں پر بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا ہدہ جیل کوئٹہ سے ایک اہم اور تفصیلی بیان سامنے آیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے سیاسی رہنما گلزادی بلوچ کو عمر قید کی سزا اور کارکن نذر مری بلوچ کی جبری گمشدگی پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی پالیسیوں اور نام نہاد مذاکراتی عمل کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے گلزادی بلوچ کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو انصاف کا قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دفاعی وکلاء کی غیر موجودگی میں فیصلے سنانا اور غیر جانب داری کو ختم کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ کینگرو عدالتیں صرف پرامن سیاسی آوازوں کو دبانے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ بی وائی سی کے سرگرم کارکن نذر مری بلوچ گزشتہ ایک سال سے جبری طور پر لاپتہ ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پرامن سیاسی کارکنوں کو قید اور لاپتہ کر کے بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو آخر کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟

جیل میں قائم 4 رکنی عسکری مذاکراتی ٹیم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ مذاکرات کے نام پر ان پر سیاسی جدوجہد سے دستبردار ہونے کے لیے شدید دباؤ ڈالا گیا۔ انہیں ملک چھوڑ کر یورپ منتقل ہونے اور سیاسی انجینئرنگ قبول کرنے کی پیشکشیں کی گئیں، جنہیں انہوں نے سختی سے مسترد کر دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی عوام کی امانت ہے اور وہ کسی سلیکٹڈ پارلیمنٹ کا حصہ بنیں گی نہ ہی اپنے قومی نظریے اور اصولوں کا سودا کریں گی۔ اگر جمہوری حقوق کی جدوجہد کی قیمت قید ہے تو وہ یہ قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اپنے بیان کے اختتام میں کہا کہ جیل کی سزائیں قوم کے حوصلے نہیں توڑ سکتیں۔ جس دن بھی وہ قید سے رہا ہوں گی، وہ لاپتہ افراد کے لواحقین اور تمام مظلوم عوام کے ساتھ پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ میدانِ عمل میں کھڑی ہوں گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article