بلوچستان کے علاقے نصیرآباد، جعفرآباد، صحبت پور، کیچ اور واشک سے تشدد اور فائرنگ کے مختلف واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں ایک ڈاکٹر اور ایک شہری ہلاک، جبکہ صحافی، سول افسر اور قبیلوں کے تصادم میں مجموعی طور پر 9 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
تھانہ صدر ڈیرہ مراد جمالی کی حدود کچی پل بیدار کے مقام پر موٹر سائیکل سوار نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے مقامی ڈاکٹر غلام حسین بلیدی کو قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ منجھو شوری میں اپنی کلینک سے واپس ڈیرہ مراد جمالی گھر جا رہے تھے۔ لاش کو ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر کے ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا گیا۔
ڈیرہ اللہ یار میں دو ویگو گاڑیوں میں سوار ڈنڈا بردار مسلح افراد نے مقامی صحافی و سوشل ورکر جمعہ خان جمالی پر حملہ کر دیا۔ شدید تشدد کے باعث ان کا سر پھٹ گیا اور ایک بازو ٹوٹ گیا۔
زخمی صحافی کو فوری ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
دوسری جانب ڈیرہ اللہ یار میں رند اور بگٹی قبائل کے درمیان مسلح تصادم میں 6 افراد زخمی ہو گئے جنہیں لیبر ہسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لڑائی میں ملوث 4 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
ادھر صحبت پورمیں مین روڈ مہر شاہ کے مقام پر نامعلوم افراد نے محکمہ لائیو اسٹاک کے افسر ڈاکٹر نواز کھوسو کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا اور فرار ہو گئے۔ زخمی ڈاکٹر کو سول ہسپتال صحبت پور منتقل کر دیا گیا ہے جہاں پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
اسی طرح تربت (کیچ) کے علاقے کلاتک کے علاقے اللہ بخت میں 3 موٹر سائیکلوں پر سوار 6 نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے عبیداللہ ولد ابراہیم نامی شخص کو موقع پر ہی قتل کر دیا۔ حملے کے بعد ملزمان فرار ہو گئے جبکہ واقعے کے محرکات سامنے نہیں آ سکے۔
علاوہ ازیں بسیمہ (واشک) کے علاقے دالی سے ایک نامعلوم شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق مقتول کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے، جس کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔
لاش کو شناخت کی غرض سے سول ہسپتال بسیمہ میں منتقل کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔