قلات : ضلعی انتظامیہ کا پارود، خلیلی اور ہشوکی کے مکینوں کو 28 ستمبر تک انخلاء کا حکم

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان میں ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹس میں ضلع قلات کے مختلف دیہی علاقوں کے مکینوں کو 28 ستمبر 2026 تک اپنے مکانات خالی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

دفتر اسسٹنٹ کمشنر قلات سے جاری کردہ باضابطہ نوٹس (نمبر 8-806، مورخہ 20 ستمبر 2026) "اطلاع برائے عوام الناس” کے عنوان کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ہرگاہ ہر خاص و عام / تمام معزز مکینوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ علاقے میں عوام کی جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے کلی پارود شمالی، پارود جنوبی، خلیلی، خفنئی اور ہشوکی سے عارضی انخلاء کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا کہ آپ تمام معزز شہریوں سے مودبانہ گزارش ہے کہ اپنی اور اپنے اہلخانہ کی سلامتی کے پیشِ نظر 28 ستمبر 2026 تک محفوظ مقامات پر منتقلی کے انتظامات مکمل کر لیں۔

نوٹس کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے آپ کے امن و سلامتی کے لیے کوشاں ہیں اور اس عمل کو پرامن طریقے سے مکمل کرنے کے لیے آپ کے مثبت تعاون کے منتظر ہیں۔

اس نوٹس کی کاپیاں ڈپٹی کمشنر قلات، ایس ایس پی قلات اور ایس ایچ او صدر تھانہ قلات کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومتِ بلوچستان اور وفاقی حکومت کی سرپرستی میں انتظامی قوانین کا سہارا لے کر عام شہریوں کو ان کے آباؤ اجداد کی زمینوں سے جبری طور پر بے دخل کیا جا رہا ہے تا کہ ان علاقوں میں فوجی جارحیت اور وسیع پیمانے پر ملٹری آپریشنز کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔

اگرچہ انتظامیہ اسے "امن و امان کے قیام اور عوام کی حفاظت” کا نام دیتی ہے، تاہم مبصرین اور مقامی ذرائع کے مطابق ان کے اور مقاصد کارفرما ہیں۔جیسے اس کے پیچھے عسکری ادارے ان حکمتِ عملیوں کے ذریعے متعلقہ جغرافیائی علاقوں کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لینا چاہتے ہیں۔

جن علاقوں میں بلوچ مسلح آزادی پسند فورسز پر مہلک حملے کرتے ہیں، وہاں کے معصوم شہریوں کو انتقامی کارروائی کے طور پر جبری نقل مکانی پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ان علاقوں میں بااثر اور کثیر معدنیات کے ذخائر پائے جاتے ہیں جنہیں اپنے تصرف اور دسترس میں لانے کے لیے مقامی آبادی کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔

بلوچستان کے متعدد علاقوں میں فورسز نے چھوٹے چھوٹے دیہاتوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کر کے اپنے فوجی کیمپوں کے ارد گرد بسانے کا اہتمام کیا ہے تا کہ مسلح آزادی پسندوں کے مہلک حملوں سے بچا جا سکے، کیونکہ بلوچ مسلح آزادی پسند عام شہریوں کی موجودگی کے باعث فورسز کی چوکیوں پر براہِ راست حملوں سے گریز کرتے ہیں۔

انتظامیہ کے اس انخلاء کے حکم کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے اور ہزاروں خاندان بے گھر ہونے کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article