پاکستانی فوج کے ہاتھوں سوراب سے 2 طالب علم جبری لاپتہ، کیچ و کوئٹہ سے 2 بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے ، سوراب سے پاکستانی فوج نے 2 نوجوان طالب علموں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جبکہ کیچ اور کوئٹہ سے 2 لاپتہ نوجوان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے علاقے سوراب، کیچ اور کوئٹہ میں پیش آنے والے واقعات میں فرنٹیر کور (FC) نے دو کمسن طالب علموں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب پہلے سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے دو نوجوان عقوبت خانوں سے بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جاری کردہ الرٹ ڈیٹا کے مطابق 19 ستمبر 2026 کو ضلع سوراب میں ایف سی اہلکاروں نے کارروائیاں کرتے ہوئے دو کمسن طالب علموں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ماجد بلوچ (عمر 17 سال) ولد محمد علی، ساکن سرخ (سوراب)۔ پیشہ طالب علم۔ 19 ستمبر 2026 کو شام 6:00 بجے گرڈ اسٹیشن سوراب کے قریب سے ایف سی نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

اسی طرح سلمان بلوچ (عمر 16 سال) ولد محمد اسحاق، ساکن سرخ (سوراب)۔ پیشہ طالب علم۔ 19 ستمبر 2026 کو شام 6:30 بجے مین آر سی ڈی (RCD) روڈ سوراب کے مقام سے ایف سی نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

بی وائی سی کے مطابق دوسری جانب پاکستانی فورسز کی تحویل میں جسمانی و نفسیاتی تشدد برداشت کرنے کے بعد دو نوجوان باحفاظت بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئے ہیں۔

عبدالرزاق ولد فضل، ساکن ریکو بلیدہ (ضلع کیچ)۔ انہیں 17 ستمبر 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا جو 19 ستمبر 2026 کو بٹ، بلیدہ کے مقام پر بازیاب ہو گئے ہیں۔

اسفند بلوچ ولد دوست محمد بلوچ، ساکن کلی الماس ایئرپورٹ روڈ، کوئٹہ۔ اسفند بلوچ کو 4 اگست 2026 کو کوئٹہ سے لاپتہ کیا گیا تھا جو ڈیڑھ ماہ سے زائد کی حراست کے بعد 20 ستمبر 2026 کو کوئٹہ میں بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے نوجوانوں کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی حقوقِ انسانی کی تنظیموں سے فوری مداخلت اور تمام جبری لاپتہ افراد کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article