ضلع کیچ سے ایک نوجوان جبری لاپتہ ، ایک بازیاب، زخمی پولیس کانسٹیبل چل بسا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ میں پاکستان فوج اور ڈیتھ اسکواڈز کی جانب سے جبری گمشدگیوں اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شدید ہوتا جا رہا ہے، جہاں گزشتہ دنوں کے دوران ایک شہری کو جبری لاپتہ کر دیا گیا، جبکہ ڈیتھ اسکواڈ کے حملے میں شدید زخمی ہونے والا پولیس کانسٹیبل طارق بلوچ 5 دن ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد دم توڑ گیا ہے۔

ضلع کیچ کے علاقے سورک، بلنگور کے رہائشی عبداللہ ولد بلار کو گزشتہ روز پاکستانی فوج نے ایک کارروائی کے دوران حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس کے بعد وہ جبری طور پر لاپتہ ہیں۔

ذرائع کے مطابق بلوچستان میں ریاستی دباؤ اور دھمکیوں کے باعث جبری گمشدگی کے کئی کیسز بروقت میڈیا پر رپورٹ نہیں ہو پاتے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے مطابق، 12 ستمبر 2026 کو ملامت (تمپ، کیچ) میں ڈیتھ اسکواڈ کے اراکین نے فائرنگ کر کے 40 سالہ پولیس کانسٹیبل طارق بلوچ ولد اللہ داد کے بیٹے طاہر بلوچ کو موقع پر ہی قتل کر دیا تھا جبکہ اس حملے میں طارق بلوچ شدید زخمی ہوئے تھے۔ ہسپتال میں 5 دن علاج کے بعد 17 ستمبر 2026 کو طارق بلوچ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔

یوں چند دنوں کے اندر ایک ہی خاندان کے باپ اور بیٹے دونوں کو ٹارگٹ کلنگ میں قتل کر دیا گیا۔

بی وائی سی نے موقف اپنایا ہے کہ ایک فعال پولیس کانسٹیبل کا ڈیتھ اسکواڈز کے ہاتھوں قتل ہونا اور اس کا عہدہ بھی اسے تحفظ نہ دے سکنا، ریاست اور اس کے ڈیتھ اسکواڈز کے کھلے گھناؤنے کردار اور عدم تحفظ کو ظاہر کرتا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق، ریکو بلیدہ (کیچ) کے رہائشی سفر خان ولد قمبر، جنہیں 17 ستمبر 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، 19 ستمبر 2026 کو بٹ، بلیدہ کے مقام پر باحفاظت بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بین الاقوامی اور قومی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں بگڑتی ہوئی صورتحال اور ریاستی سرپرستی میں قائم ڈیتھ اسکواڈز کی کارروائیوں کا فوری نوٹس لیں اور طاہر بلوچ و طارق بلوچ کے قتل سمیت تمام جبری گمشدگیوں کی شفاف و آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article