بلوچستان کے ضلع خاران کے ڈپٹی کمشنر (DC) منیر احمد سومرو کو نوشکی خاران شاہراہ پر سفر کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے مبینہ طور پر تحویل میں لے کر اغوا کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو نوشکی خاران روڈ پر سفر کر رہے تھے کہ مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روک کر انہیں اپنے ہمراہ نامعلوم سمت کی جانب منتقل کر دیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں شدید سیکیورٹی تشویش اور سنسنی پھیل گئی ہے جبکہ مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
اس تازہ ترین واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی بھی بلوچ مسلح یا عسکریت پسند تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ تاہم، یہ واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے؛ اس سے قبل بھی بلوچ آزادی پسند عسکریت پسند تنظیموں سمیت ٹی ٹی پی و دیگر گروہوں کی جانب سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اعلیٰ انتظامی افسران، اسسٹنٹ کمشنرز، سیکیورٹی اہلکاروں اور سرکاری حکام کو اغوا کرنے اور تحویل میں لینے کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔
انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز نے شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے واقعے کی تحقیقات اور سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔