بلوچستان بھر میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی پیش قدمی اور اثر و رسوخ میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں ایک طرف پاکستانی فورسز کے اعلیٰ اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو دوسری جانب اہم سپلائی لائنز کو بلا تعطل بلاک یا تباہ کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ضلع چاغی کے اہم تجارتی مرکز چاغی بازار سے نامعلوم مسلح افراد نے ایس ایچ او چاغی، گل شاہ محمد حسنی کو مبینہ طور پر تحویل میں لے کر اغوا کر لیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد ایس ایچ او کو اپنے ساتھ نامعلوم سمت کی جانب لے گئے ہیں، جس کے بعد علاقے میں سیکیورٹی صورتحال شدید کشیدہ ہو گئی ہے۔
دوسری جانب، بسیمہ کے علاقے پٹک میں مسلح افراد نے ایل پی جی (LPG) گیس سے بھرے ایک ٹینکر کو روک کر اسے آگ لگا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم سڑک پر نقل و حرکت کچھ دیر کے لیے معطل رہی۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ "بلوچستان کے بلوچ آزادی پسند مسلح گروہ محض ایک ایس ایچ او کی مار ہیں”۔ تاہم، موجودہ حقائق ان کے دعوؤوں کے بالکل برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔
چاغی بازار جیسے گنجان علاقے سے خود ایس ایچ او کا اغوا ہونا اور مسلح گروہوں کا آزادانہ نقل و حرکت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ فورسز کا کنٹرول ختم ہو رہا ہے۔
بلوچستان بھر میں مسلح تنظیموں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث سیکیورٹی فورسز اپنی دور دراز چیک پوسٹیں چھوڑ کر کوئٹہ اور دیگر بڑے شہروں میں واقع اپنے مرکزی و حفاظتی کیمپوں میں منتقل ہو رہی ہیں۔
بلوچستان کے طول و عرض میں آزادی پسندوں کی جانب سے بلا رکاوٹ سرگرمیوں نے ریاستی سیکیورٹی مشینری اور وزراء کے زبانی دعوؤوں کے قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔
دونوں واقعات کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ اور نہ ہی اس سلسلے میں سرکاری موقف سامنے آیا ہے۔