ہوشاپ، تربت، وڈھ اور چاغی میں پاکستانی فوج پر حملے، متعدداہلکار ہلاک، 2 اغوا، جھڑپیں جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے مختلف علاقوں کیچ (ہوشاپ، کولواہ، تربت)، خضدار (وڈھ)، چاغی اور جھل مگسی میں مسلح افراد کے حملوں، فورسز سے جھڑپوں اور پرتشدد واقعات کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہو گئے ہیں جبکہ پولیس اہلکاروں کے اغوا کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ میں بل تنک اور کولواہ کے مقام بدرنگ پر سڑک کی تعمیراتی کمپنی کو سیکورٹی فراہم کرنے والے فورسز کے قافلے پر مسلح افراد نے گھات لگا کر حملہ کیا۔ ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار اور گاڑیوں میں موجود فورسز اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 2 اہلکار ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں گن شب ہیلی کاپٹروں کی پروازیں دیکھی گئیں۔

دوسری جانب تربت کے علاقے ‘ڈبک مینو کراس’ کے مقام پر بھی عسکری قافلے پر ایک بڑا حملہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق حملے میں فورسز کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے اور سڑک پر 4 اہلکاروں کی لاشیں دیکھی گئی ہیں۔

ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ کے علاقے ارینجی میں مسلح افراد نے ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ شفیق الرحمان مینگل کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے اس شدید واقعے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 5 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ حملے کے دوران ایک پولیس اہلکار کو مسلح افراد کی جانب سے اپنے ساتھ لے جانے کی بھی اطلاع ہے۔

ضلع چاغی کے علاقے سرگیشہ میں مسلح افراد نے پولیس کی ناکہ بندی کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے کارروائی کے دوران 2 پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کر دیا ہے۔

ضلع جھل مگسی کے علاقے کوٹڑا میں فرنٹیئر کور (ایف سی) اور ایک مسلح تنظیم کے مابین شدید جھڑپ ہوئی ہے، جس کے باعث پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

تمام واقعات کے بعد متعلقہ علاقوں میں فورسز نے ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article