مستونگ و چاغی سے پاکستانی فوج کے ہاتھوں 2 نوجوان جبری لاپتہ، 2 بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی جانب سے کارروائیاں کرتے ہوئے مستونگ اور چاغی سے مزید دو بلوچ نوجوانوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا گیا ہے، جبکہ زیرِ حراست دو نوجوان شدید جسمانی و نفسیاتی تشدد برداشت کرنے کے بعد بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے مطابق ابرار بلوچ ولد قادر بلوچ (عمر 16 سال) طالب علم، ساکن کلی ساروان ٹاؤن، مستونگ۔ انہیں 17 اگست 2026 کو رات 1:00 بجے سی ٹی ڈی (CTD) اور آئی ایس آئی (ISI) کے اہلکاروں نے ان کے گھر سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

ناصر ناشاد ولد موسیٰ خان (عمر 29 سال) موسیقار (فنکار)، ساکن کلی تاج محمد خان، چاغی۔ 8 ستمبر 2026 کو شام 5:00 بجے چاغی کے فٹ بال گراؤنڈ سے ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

دوسری جانب فورسز کے عقوبت خانوں سے گزشتہ دنوں لاپتہ ہونے والے دو نوجوانوں کی بازیابی کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔

جمیل ولد اقبال (ساکن دادی دشت، کیچ) — 8 ستمبر 2026 کو لاپتہ کیے جانے کے بعد 13 ستمبر کو تربت سے بازیاب ہوئے۔

حافظ جمیل احمد ولد چھٹا خان (ساکن منوجان روڈ، ہڈہ، کوئٹہ) — 9 ستمبر 2026 کو لاپتہ کیے گئے اور 12 ستمبر کو کوئٹہ سے بازیاب ہوئے۔

ذرائع کے مطابق دونوں بازیاب ہونے والے نوجوانوں کو دورانِ حراست شدید غیر انسانی جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کی وجہ سے ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ Human Rights اور BYC کے فعال کارکنان نے بلوچستان میں نوجوانوں اور فنکاروں کی مسلسل جبری گمشدگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article