بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام بلوچ رہبر و راہشون سردار عطاء اللہ مینگل کی پانچویں برسی اور شہدائے شاہوانی اسٹیڈیم کی پہلی برسی کی مناسبت سے کراچی پریس کلب میں تعزیتی ریفرنس منعقد کیا گیا، جس میں سیاسی و قوم پرست رہنماؤں، دانشوروں، صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ سردار عطاء اللہ مینگل کی برسی بلوچستان میں نہ مناسکنا ایک المیہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سردار عطاء اللہ مینگل نے اپنی پوری زندگی بلوچ اور بلوچستان کے لیے وقف کردی، تاہم آج ان کی برسی بھی بلوچستان میں منانا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان میں یہ دن منایا جائے تو شاید شہداء کی ایک اور فہرست بن جائے اور شہداء کی تصاویر آویزاں کرنے کے لیے شاہراہ فیصل بھی کم پڑ جائے۔
سردار اختر مینگل نے سردار عطاء اللہ مینگل کے سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میر غوث بخش بزنجو نے انہیں سیاست میں لانے کے لیے متعدد بار کوشش کی۔ ایوب خان کے دور میں بلدیاتی نظام کے تحت ۲۵ کلومیٹر سڑک کی تعمیر کے لیے ۲۵ ہزار روپے کے فنڈز ملنے کے واقعے نے سردار عطاء اللہ مینگل کی سیاست میں دلچسپی پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے بلوچستان کی موجودہ صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہبلوچستان میں قتل عام، جبری گمشدگیوں اور لاشیں پھینکے جانے کے واقعات کے ساتھ خواتین کو بھی مبینہ طور پر گھروں سے نکال کر ویران علاقوں میں چھوڑے جانے کے واقعات سامنے آرہے ہیں، تاہم ان کے بقول مقتدر حلقوں اور ان کے ہمنواؤں کے نزدیک سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب دانشوروں اور میڈیا کی سوچ اور قلم پر پہرہ لگا دیا جائے تو سیاسی جدوجہد کے لیے راستہ تلاش کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے جمہوری انداز میں پارلیمان کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرنے کی کوشش کی، تاہم بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں کے دوران جھنڈا اٹھانا، کسی خاتون کے سر پر دوپٹہ رکھنا یا کسی مظلوم باپ کے آنسو پونچھنا بھی جرم بن گیا ہے۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ لک پاس کے مقام پر ۲۸ مارچ کو ان پر خودکش حملہ کیا گیا جبکہ ۲ ستمبر کو سیاسی قیادت کی موجودگی میں ایک جلسے کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم ان کے بقول ایک سال گزرنے کے باوجود ان واقعات کی تحقیقات نہیں کی گئیں اور نہ ہی متاثرین سے پوچھ گچھ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جس تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی، انہیں معلوم ہے کہ اس کے پیچھے کون ہے۔
موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک سابق وزیراعظم کے خلاف سو مقدمات درج کیے جاتے ہیں، لیکن ایک اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔ ان کے بقول ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو احتجاج کے معاملے پر ۲۵ سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ ایمان مزاری کو ایک ٹویٹ کے معاملے پر ان کے شوہر کے ہمراہ گرفتار کیا گیا۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے، جبکہ حکمرانوں کی تعریف کرنے والوں کو محب وطن کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستونگ میں باغات کی کٹائی مبینہ طور پر اپنی ناکامیوں اور غلطیوں کو چھپانے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو خواتین ماضی میں گھر سے باہر نکلنے کو معیوب سمجھتی تھیں، آج انہی خاندانوں کی بچیاں مزاحمت کررہی ہیں، جبکہ سمی دین بلوچ اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ مقبول سیاسی رہنما بن کر سامنے آئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایوب خان سے لے کر موجودہ مقتدر حلقوں تک مختلف ادوار میں طاقت کے استعمال کے ذریعے ملک پر تجربات کیے گئے۔ ان کے بقول موجودہ سیاسی نظام ایسے ڈھانچے کی مانند ہے جس میں سیاسی دھڑ اور عسکری سر موجود ہو۔
نئے صوبوں کی بحث کے حوالے سے سردار اختر مینگل نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم کے لیے کبھی کوئی عوامی تحریک نہیں چلی، اس لیے صوبوں کی تقسیم کا فیصلہ ملک کو مزید تقسیم کرنے کی جانب ایک قدم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ون یونٹ کے خلاف سیاسی اکابرین نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور قومیں اپنی شناخت مٹانے کے لیے خاموش نہیں رہیں گی۔
تعزیتی ریفرنس سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کو اس کی اصل ساخت کے ساتھ بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو اس لیے قید کیا گیا کہ وہ ملک کے مقتدر حلقوں کی اطاعت سے انکاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو تباہی کی جانب لے جانے والوں کو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئین، قانون اور عدلیہ کی بالادستی کی بات کرنے والوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق سردار عطاء اللہ مینگل جیسے سیاسی اکابرین کے نقش قدم پر غیر متزلزل جمہوری جدوجہد کے ذریعے ہی غیر سیاسی عناصر کو شکست دی جاسکتی ہے۔
تحفظ آئین پاکستان کے رہنما علامہ راجہ عباس ناصر نے بھی خطاب کرتے ہوئے آئین کی بالادستی اور اس کی اصل روح کے مطابق بحالی پر زور دیا۔
کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے کہا کہ جب بھی ملک میں جبر کا ماحول پیدا ہوا، کراچی پریس کلب نے آزادی اظہار کے لیے آواز اٹھائی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج میڈیا میں بعض پروگرام اور مواد کہیں اور سے طے ہوکر آتے ہیں اور بعض سیاسی رہنماؤں کے نام لینے پر بھی پابندی عائد ہے۔
فاضل جمیلی نے کہا کہ علی وزیر اور ایمان مزاری کی گرفتاریوں پر بھی میڈیا میں مناسب بحث نہیں ہورہی۔ انہوں نے موجودہ میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوامی مشکلات اور سیاسی مسائل پر کھل کر بات نہیں کی جارہی۔
معروف دانشور محمد علی تالپور نے کہا کہ جہاں سیاسی کارکنوں کو سچ بات کہنے پر پابندیوں کا سامنا ہو، وہاں جمہوری جدوجہد مؤثر نتائج حاصل نہیں کرسکتی۔ ان کے بقول ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت ہی واحد راستہ ہے۔
جئے سندھ قومی محاذ کے رہنما الٰہی بخش بھگت نے سردار عطاء اللہ مینگل کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عدم تشدد کا فلسفہ اپنایا اور آج کے دور میں ایسے سیاسی رہنما کم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج میڈیا پر بھی مختلف نوعیت کی پابندیاں ہیں جبکہ سیاسی کارکنوں کے بچوں کو مبینہ طور پر لاپتا کیا جارہا ہے۔
قومی عوامی تحریک کے رہنما مظہر راہجو نے کہا کہ عوام کے حقوق کی بات کرنے والوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے نئے صوبوں کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کی تقسیم سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
جمعیت علمائے اسلام کے رہنما قاری عثمان نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن قائم کیا جائے۔ انہوں نے نئے صوبوں کی بحث کو موجودہ حالات سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے امن قائم کیا جائے، اس کے بعد صوبوں کی تقسیم پر بات ہونی چاہیے۔
تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر مقررین نے سردار عطاء اللہ مینگل کی سیاسی جدوجہد اور بلوچ سمیت دیگر مظلوم اقوام کے حقوق کے لیے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور آئین کی بالادستی، جمہوری اداروں کی مضبوطی، سیاسی آزادی اور صوبائی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔