بلوچ وائس فار جسٹس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ میں کور کمانڈر اور دیگر فوجی حکام کی جانب سے اسلام آباد سے خصوصی طیاروں کے ذریعے اپنے من پسند Yellow Journalism کے علمبردار صحافیوں کو بلوچستان لا کر کوئٹہ کینٹ میں بریفنگ دینا اور بلوچستان کے مسئلے پر دروغ گوئی کا سہارا لیتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی کردار کشی کرنا قابلِ مذمت ہے۔
انہوںنے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ مارچ 2025 سے فوجی تحویل میں ہدہ جیل، کوئٹہ میں قید ہیں۔ ان پر متعدد جعلی مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، تاہم فوجی حکام آج تک ان پر عائد کیے گئے بے بنیاد الزامات کو ثابت نہیں کر سکے۔ اگر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ پر لگائے گئے الزامات حقیقت پر مبنی ہوتے تو فیس لیس ٹرائل کے بجائے اوپن کورٹ ٹرائل کیا جاتا، ثبوت میڈیا اور دنیا کے سامنے پیش کیے جاتے اور عدالتی کارروائی کو شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھا جاتا۔
بیان میں کہا گیا کہ اسی طرح ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو بار بار مذاکرات کی پیشکش کرنے کا دعویٰ بھی جھوٹ پر مبنی ہے۔ فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیوں نے بار بار ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو ڈرانے، دھمکانے اور ان کے اصولی مؤقف سے دستبردار کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہیں جبری لاپتہ افراد اور بلوچ نسل کشی کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر واقعی صاف، شفاف اور بامعنی مذاکرات مقصود ہیں تو سب سے پہلے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر رہنماؤں پر قائم تمام جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں، انہیں غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور انہیں آزاد ماحول میں اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق دیا جائے۔ ایک فریق بندوق سے لیس ہو اور دوسرے فریق کے ہاتھ پاؤں زنجیروں میں جکڑے ہوں، وہ جیل میں قید ہو، تو اسے مذاکرات نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ طاقت کے زور پر اپنی شرائط منوانے کی کوشش ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو صحافی فوجی اہتمام کردہ بریفنگ میں شرکت کے بعد اب بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر پردہ پوشی کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اور فوجی حکام کے جھوٹ پر مبنی الزامات کو سنسنی خیز انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں چاہیے تھا کہ صحافتی اصولوں کا پاس رکھتے ہوئے طاقتور بندوق بردار فریق کو سننے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے مظلوم عوام کو بھی سنتے۔
بیان میں کہا گیا کہ انہیں جبری لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ سے ملنا چاہیے تھا، جعلی مقابلوں میں مارے جانے والے اور بعد ازاں مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں ملنے والے نوجوانوں کے خاندانوں کی گواہیاں ریکارڈ کرنی چاہیے تھیں، کھڈ کوچہ اور سوراب جا کر زمینی حقائق کا جائزہ لینا چاہیے تھا، مقامی آبادی سے بات کرنی چاہیے تھی اور سوراب میں جیٹ طیاروں کی بمباری سے متاثر ہونے والے خاندانوں کی خبرگیری کرنی چاہیے تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ گزشتہ دنوں وڈھ اور گزشتہ ایک سال کے دوران زہری میں ڈرون حملوں میں قتل کیے گئے مقتولین کے لواحقین سے ملاقات کرنی چاہیے تھی۔ گوادر، پنجگور، تربت، دالبندین، آواران، بولان اور مچھ جا کر عام لوگوں کے مؤقف کو بھی سامنے لانا چاہیے تھا تاکہ بلوچستان کی حقیقی تصویر عوام تک پہنچتی۔
ترجمان کے مطابق ہدہ جیل، کوئٹہ کینٹ سے واکنگ ڈسٹنس پر واقع ہے۔ وہاں جا کر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کی دیگر قید رہنماؤں سے ملاقات کی کوشش کی جاتی، ان کا مؤقف بھی سنا جاتا، پھر بلوچستان کے حالات و واقعات پر اپنی رائے قائم کی جاتی۔ یک طرفہ بریفنگ کو بنیاد بنا کر پورے خطے کے بارے میں حتمی رائے دینا صحافتی ذمہ داری کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ صحافت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر خبر میں تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف شامل کیا جائے، زمینی حقائق کی آزادانہ تصدیق کی جائے اور طاقتور اور کمزور دونوں فریقوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ کسی ریاستی یا عسکری ادارے کی بریفنگ کو تحقیق کے بغیر حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا آزاد صحافت کے بجائے یک طرفہ بیانیے کی ترویج کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ذمہ دار صحافت تقاضا کرتی ہے کہ رپورٹر متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں، عینی شاہدین، متاثرین کے اہلِ خانہ، مقامی آبادی، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر متعلقہ ذرائع سے معلومات حاصل کریں، دعوؤں کی آزادانہ جانچ پڑتال کریں اور شواہد کی بنیاد پر رپورٹنگ کریں۔ یہی وہ اصول ہیں جو صحافت کو محض سرکاری بیانیے کی بازگشت بننے کے بجائے عوامی اعتماد کا ذریعہ بناتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان جیسے حساس خطے میں، جہاں انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور اظہارِ رائے کی آزادی جیسے سنگین سوالات موجود ہیں، وہاں صحافت کی اصل ذمہ داری اقتدار کے مراکز سے زیادہ متاثرہ عوام کی آواز سننا، حقائق کی آزادانہ چھان بین کرنا اور غیر جانب دارانہ رپورٹنگ کے ذریعے عوام کو مکمل تصویر فراہم کرنا ہے۔
ا ن کا کہنا تھا کہ بلوچ وائس فار جسٹس بین الاقوامی میڈیا، آزاد صحافیوں اور انسانی حقوق کے مبصرین کو بلوچستان تک آزادانہ رسائی دینے کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ وہ زمینی حقائق کا خود مشاہدہ کریں، تمام فریقوں کا مؤقف سنیں اور بلوچستان کی صورتحال پر غیر جانب دار اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ دنیا کے سامنے لا سکیں۔