بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) کے اسیر سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے کہا ہے کہ ان کی بہن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کبھی امن، مذاکرات یا بات چیت کے عمل سے انکار نہیں کیا، وہ امن پر پختہ یقین رکھتی ہیں اور ہر ایسی سنجیدہ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار رہی ہیں جو امن اور ہم آہنگی کی طرف لے جائے۔
اپنے بیان میں نادیہ بلوچ نے کہا کہ ماہ رنگ بلوچ سے جب بھی کسی نے رابطہ کیا، چاہے وہ جیل میں تھیں یا اس سے پہلے، وہ ہمیشہ بات چیت کے لیے تیار رہی ہیں۔ ان کے مطابق ماہ رنگ بلوچ خود بھی لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر مذاکرات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں اور ماضی میں مختلف مواقع پر مذاکرات میں شریک ہوچکی ہیں، جن میں ستمبر ۲۰۲۲ میں وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ سے مذاکرات، ۲۰۲۳ میں اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے ساتھ بات چیت اور اگست ۲۰۲۴ میں گوادر میں راجی مچی کے دوران اور اس کے بعد بلوچستان حکومت سے مذاکرات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماہ رنگ بلوچ پہلے بھی مذاکرات کے لیے تیار تھیں، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی بات چیت کے لیے تیار رہیں گی۔ تاہم ان کے بقول کچھ عناصر جنگ اور قتل و غارت سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ماہ رنگ بلوچ اپنی سیاسی سوچ اور پرامن جدوجہد سے دستبردار ہوکر ان کے لیے کٹھ پتلی یا پراکسی بن جائیں، جسے ماہ رنگ بلوچ متعدد مرتبہ مسترد کرچکی ہیں۔
نادیہ بلوچ نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کیا جن میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہ رنگ بلوچ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم اس عمل میں لاپتہ افراد کے لواحقین، ان خاندانوں جن کے بچوں کو مبینہ طور پر قتل کرکے پھینک دیا گیا، اور برسوں سے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ماہ رنگ بلوچ مذاکراتی عمل میں صرف اپنی ذات کی نمائندگی نہیں کریں گی بلکہ متاثرہ خاندانوں کے نمائندے کے طور پر بھی شریک ہوں گی اور ان کے مطالبات کو مذاکرات کا لازمی حصہ بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملنا، ان کے پیاروں کے بارے میں حقیقت سامنے آنا اور جبری گمشدگیوں کا مسئلہ حل ہونا ضروری ہے۔
نادیہ بلوچ نے کہا کہ امن اور مذاکرات کا مطلب متاثرین کے درد، مطالبات اور بنیادی حقوق کو نظرانداز کرنا نہیں۔ ان کے بقول بامعنی اور پائیدار مذاکراتی عمل وہی ہوگا جس میں متاثرہ خاندانوں کی آواز سنی جائے اور ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔