بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) کے اسیر رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ہدہ جیل کوئٹہ سے جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں عدلیہ اپنا اثر و رسوخ اور عوام کا اعتماد مکمل طور پر کھو چکی ہے۔ جو عدلیہ کبھی عوام کو انصاف فراہم کرنے کی ذمہ دار تھی، آج وہ ریاستی اداروں کی سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے اور انصاف کے تقاضوں کو پامال کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے چیف جسٹس کامران ملاخیل ذاتی طور پر BYC (بلوچ یکجہتی کمیٹی) کے تمام مقدمات کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ ان کی قیادت میں جسٹس محمد علی مبین، جسٹس قادر شاہ بخاری اور بلوچستان بھر میں BYC کے مقدمات کی سماعت کرنے والے تمام ججوں کو ریاستی ہدایات کے مطابق فیصلے سنانے کا کام سونپا گیا ہے۔ ایسے حالات میں عدلیہ کی غیر جانبداری اور آزادی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
بی وائی سی رہنما نے کہا کہ گلزادی بلوچ کا مقدمہ عدالتی رویے کی ایک واضح مثال ہے۔ متعلقہ جج نے کئی مواقع پر یہ بیان دیا ہے کہ وہ دباؤ کا شکار ہیں اور انہیں مقدمے میں سزا سنانے کی ہدایت کی گئی ہے، جس سے عدالتی آزادی اور غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ 7 ستمبر کو عدالت میں ہڑتال اور وکیل صفائی کی عدم موجودگی کے باوجود گلزادی بلوچ کے مقدمے کی کارروائی جاری رکھی گئی اور وکیل صفائی کی غیر موجودگی میں گواہ پر جرح کی گئی۔ یہ عمل دفاع کے بنیادی حق اور منصفانہ ٹرائل (fair trial) کے اصول پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح، ہمارے مقدمات میں ہماری مرضی کے بغیر سرکاری وکلاء مقرر کیے گئے اور انہیں مختلف مراعات کے ساتھ اسلام آباد لایا گیا، جبکہ ہمیں دفاع کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا۔ کیا یہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا انصاف ہے جہاں عدالتیں آزادانہ فیصلے کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کے پہلے سے طے شدہ فیصلوں کو سنانے کا کردار ادا کر رہی ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ہمیں سنائی گئی عمر قید کی سزاؤں کے خلاف اپیل کرنے کا آئینی اور قانونی حق حاصل ہے، لیکن ہماری اپیل کی سماعت کے لیے بھی اکتوبر تک کی طویل تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ جسٹس کامران ملاخیل کی قیادت میں اس طرح کی مسلسل تاخیر ہمارے اپیل کے بنیادی حق اور فوری انصاف کے حق کو متاثر کر رہی ہے۔ جب کوئی شخص پہلے ہی حراست میں ہو، تو اس کی اپیل کو بلاوجہ طویل عرصے تک ملتوی کرنا درحقیقت حراست کو ہی سزا میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔
ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ 13 جون سے لے کر آج تک، BYC نے ‘بے چہرہ ٹرائلز’ (faceless trials) کے خلاف احتجاجاً 20 سماعتوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔ اس سلسلے میں، ہماری درخواست بلوچستان ہائی کورٹ میں دائر کی جا چکی ہے، لیکن چیف جسٹس کامران ملاخیل کی سربراہی میں عدالت ہماری درخواست کی سماعت کرنے اور ہمارے دفاع کے بنیادی حق کا تحفظ کرنے کے بجائے اس معاملے میں مسلسل تاخیر کر رہی ہے۔ یہ رویہ عدلیہ کی غیر جانبداری پر ایک واضح سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
اسیر رہنما کا کہنا تھا کہ دوسری جانب، گزشتہ چھ ماہ سے ہماری ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کرنے کے بجائے چیف جسٹس ملاخیل بار بار مقدمات کو کاز لسٹ سے خارج (ڈی لسٹ) کر رہے ہیں۔ عدالتی عمل کے ذریعے ہی کسی شخص کو سزا دینا اور ضمانت کے معاملات میں مسلسل تاخیر کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے چیف جسٹس کو چاہیے کہ وہ کسی فریق کا کردار ادا کرنے کے بجائے اپنے آئینی عہدے کے تقاضوں کے مطابق غیر جانبدارانہ اور انصاف پر مبنی فیصلے کریں۔ عدلیہ کا کام ریاستی اداروں کے فیصلوں کا قانونی جواز فراہم کرنا نہیں، بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق، دفاع کے حق اور انصاف تک بروقت رسائی کا تحفظ کرنا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کاآخر میں کہنا تھا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں BYC کے مقدمات میں عدالتی جانبداری، دفاع کے حق سے محرومی اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا فوری نوٹس لیں اور شفاف و غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔