ڈیرہ مراد جمالی میں قیدی حراست کے دوران قتل، خضدار سے نوجوان کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے اضلاع خضدار اور ڈیرہ مراد جمالی میں پرتشدد واقعات کے نتیجے میں دو شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

ڈیرہ مراد جمالی میں پولیس کی تحویل میں قید ایک شہری کو مبینہ طور پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا، جسے پولیس انتظامیہ حادثہ قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق ضلع خضدار کے علاقے گونِکُو سے ایک نوجوان سمیع اللہ کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

مقتول کو نامعلوم افراد نے بے دردی سے گولیاں مار کر قتل کیا تھا۔

لاش ملنے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم قتل کے محرکات اور ملوث عناصر کے بارے میں فورسز یا مقامی انتظامیہ کی جانب سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

دوسری جانب ڈیرہ مراد جمالی کے سٹی تھانے میں پولیس تحویل میں قید بزدارقبیلہ سے تعلق رکھنے والے شہری مختیار علی کو مبینہ طور پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق مختیار علی کو چند روز قبل ایک معمولی لڑائی جھگڑے کے مقدمے میں گرفتار کر کے تھانے میں بند کیا گیا تھا۔

واقعہ منظرِ عام پر آنے کے بعد سٹی تھانے کا محرر اور پولیس حکام دعویٰ کر رہے ہیں کہ گولی "اچانک” چلی، تاہم عوامی و سیاسی حلقوں اور ورثاء نے اس مؤقف کو سراسر جھوٹ اور حقائق کو چھپانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

تجزیہ کاروں اور مقامی ذرائع کے مطابق یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ بلوچستان بھر میں جاری منظم حراستی قتل (Custodial Killing) کا ایک اور شاخسانہ ہے، جہاں پولیس اہلکار جرم کا بار خود سے ہٹانے اور کارروائی سے بچنے کے لیے اسے اتفاقی حادثہ ظاہر کر رہے ہیں۔

مقتول مختیار علی کے ورثاء نے اس حراستی قتل پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے معاملے کی فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملوث پولیس اہلکاروں کو کیفِرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article