بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے ایڈیشنل سیشن جج-I کی عدالت میں چلنے والے گُل زادی بلوچ کے کیس کی کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے عدالتی غیر جانبداری اور منصفانہ ٹرائل (Fair Trial) کے آئینی حق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
بی وائی سی کے ترجمان کے مطابق مذکورہ جج کی جانب سے متعدد بار یہ بیانات سامنے آئے ہیں کہ ان پر شدید دباؤ ہے اور وہ کیس میں عمر قید یا سزائے موت سنا سکتے ہیں۔ اس نوعیت کے الفاظ عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں، 7 ستمبر کو وکلائے صفائی کی ہڑتال کے باوجود، ان کی عدم موجودگی میں عدالت نے گُل زادی بلوچ کے کیس کی کارروائی آگے بڑھائی اور دفاعی کونسل کے بغیر ہی گواہ پر جرح مکمل کر لی۔ بی وائی سی کے مطابق یہ عمل آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A (منصفانہ ٹرائل کا حق) اور بین الاقوامی معاہدے ICCPR کے آرٹیکل 14(3) کی مکمل خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ بھی اس معاملے میں غیر جانبدار ادارہ ثابت نہیں ہو سکی ہے، کیونکہ اس کے فیصلوں اور مسلسل تغافل کے باعث قیدیوں کی غیر قانونی حراست طویل ہو رہی ہے۔ بی وائی سی کے اسیر رہنماؤں کے مقدمات میں ایک طرف کارروائیاں نپٹائی جا رہی ہیں، تو دوسری جانب ان کی ضمانت کی درخواستوں کو بلا جواز التوا کا شکار بنایا جا رہا ہے تاکہ عدالتی عمل ہی کو سزا کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ قید و بند کی صعوبتیں، عدالتی تاخیر اور سیاسی انتقام بی وائی سی کی قیادت کو حقوق کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے تمام بااختیار عدالتی و آئینی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ جج کے جانبدارانہ رویے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ گُل زادی بلوچ سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو دفاع اور وکلائے صفائی کا مکمل قانونی حق فراہم کیا جائے۔زیرِ التوا تمام ضمانتوں اور آئینی درخواستوں پر بلا تاخیر، شفاف اور قانونی فیصلہ صادر کیا جائے تاکہ انصاف کی فراہمی میں عدالتی تاخیر کو بطور حربہ استعمال نہ کیا جا سکے۔