بلوچستان کے علاقے خاران اور پنجگور سے پاکستانی فوج کی گاڑیوں پر مسلح حملوں، نوروز قلات میں شدید جھڑپوں اور سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق منگل کی شام خاران شہر کے قریب مسلح افراد نے پاکستانی فوج کی ایک قافلے کو باقاعدہ نشانہ بنایا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں فوج کی 3 گاڑیاں براہِ راست نشانہ بنیں، جس کے نتیجے میں 10 ملٹری اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب، خاران کے علاقے نوروز قلات میں بھی مسلح افراد اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید نوعیت کی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق فائرنگ اور جھڑپوں کے سلسلے کے بعد اب علاقے میں حالات معمول پر آ چکے ہیں۔
ضلع پنجگور کے علاقے پروم میں مسلح افراد نے سیکیورٹی فورسز کے لیے راشن لے جانے والی ایک گاڑی کو روک کر نذرِ آتش کر دیا، جبکہ ایک اور گاڑی کو اپنے تحویل میں لے لیا۔
علاوہ ازیں، پنجگور ہی کے سرحدی علاقے چیدگی میں ماشکیل کور کے مقام پر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے نگرانی کے لیے نصب کیے گئے خفیہ جاسوسی کیمروں کو مسلح افراد نے کارروائی کر کے تباہ کر دیا۔
ان تمام کارروائیوں کے حوالے سے تاحال سرکاری حکام یا فورسز کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔اور نہ ہی کسی تنظیم نےا ن کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔