ضلع کیچ : بدامنی، بارڈر بندش اور چیک پوسٹوں کے خلاف آل پارٹیز کا 19 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، بارڈر تجارت میں رکاوٹوں، تاجروں کو مبینہ ہراساں کیے جانے اور شاہراہوں و عوامی راستوں کی بندش کے خلاف آل پارٹیز کیچ نے حکومت کے سامنے 19نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا۔

تربت پریس کلب کے آڈیٹوریم میں منعقدہ پرہجوم پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خصوصی شرکت کی، جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں، انجمن تاجران، پیرامیڈیکل اسٹاف، وکلا، سول سوسائٹی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے نمائندے موجود تھے۔

پریس کانفرنس سے آل پارٹیز کیچ کے کنوینر یونس جاوید، ڈپٹی کنوینر فدا جان بلیدی، جماعت اسلامی کے صوبائی رہنما غلام یاسین، بی این پی عوامی کے مرکزی رہنما ظریف زدگ بلوچ، پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی رہنما خان محمد جان گچکی، انجمن تاجران کیچ کے صدر نثار آدم جوسکی، مرکزی جمعیت اہلِ حدیث بلوچستان کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر علی جان بلوچ، جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا جاوید نعمانی، بی این پی کے رہنما ڈاکٹر غفور اور دیگر نے خطاب کیا۔

رہنماؤں نے کہا کہ کیچ کے عوام ایک طرف بدامنی، چوری، ڈکیتی، لوٹ مار اور اغوا برائے تاوان کے خوف میں مبتلا ہیں تو دوسری جانب روزگار اور کاروبار کے راستے محدود کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تربت، بلیدہ، دشت، ہوشاپ سمیت پورے ضلع میں امن و امان بحال، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

پریس کانفرنس میں پولیس کی کارکردگی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ جوسک، ناصر آباد، دشت، بلیدہ اور ہوشاپ سمیت تمام تھانوں میں پولیس نفری اور ذمہ دار افسران کی موجودگی یقینی بنائی جائے، جبکہ ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو اپنے علاقوں میں فعال کیا جائے تاکہ شہریوں کو بروقت قانونی و انتظامی مدد مل سکے۔

کلگ سہرانی میں بلوچ خاتون ماہ گل کے مبینہ اغوا اور قتل کے واقعے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رہنماؤں نے واقعے کی فوری، غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات، ملوث عناصر کی گرفتاری اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین سمیت کسی بھی شہری کا جان و مال محفوظ نہ ہونا امن و امان کی صورتحال پر سنجیدہ سوال ہے۔

بارڈر بندش کو معاشی مشکلات کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے آل پارٹیز کیچ نے عبدوئی اور جالگی سمیت کیچ کے تمام بارڈر پوائنٹس فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ بارڈر تجارت سے وابستہ ہزاروں خاندان متاثر ہورہے ہیں، اس لیے ردیگ بارڈر کو سابقہ پوزیشن پر بحال کرکے تجارت معمول کے مطابق جاری کی جائے اور تاجروں کے لیے شفاف، آسان اور تاجر دوست نظام وضع کیا جائے۔

انہوں نے ردیگ اور دیگر بارڈر پوائنٹس پر تاجروں اور شہریوں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے سامان لانے والی گاڑیوں کو موچکو کے مقام پر روکنے اور مبینہ طور پر رقم طلب کرنے کے معاملات کا بھی سدباب کیا جائے۔

تربت شہر میں چیک پوسٹوں اور عوامی راستوں کی بندش پر اعتراض کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ سکیورٹی اقدامات کے نام پر شہریوں کی نقل و حرکت اور معمولاتِ زندگی مفلوج نہیں کیے جاسکتے۔ انہوں نے بند سڑکیں اور راستے فوری کھولنے، غیر ضروری چیک پوسٹیں ختم کرنے اور عوام کے قدیم و براہِ راست راستے بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

آل پارٹیز کیچ نے جوسک سے ہوشاب تک مبینہ بھتہ خوری کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔ رہنماؤں کے مطابق تربت ہسپتال، بلوچستان ہائی کورٹ اور لا کالج جیسے اہم اداروں تک رسائی کے راستوں پر موجود غیر ضروری رکاوٹیں ختم کی جائیں تاکہ مریضوں، طلبہ، وکلا اور عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ غلام نبی پمپ سے پارک ہوٹل تک سڑک کھولنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

اغوا برائے تاوان کے لیے شہریوں کو مبینہ طور پر فون کرکے ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آل پارٹیز نے شہری آبادی والے علاقوں میں ڈرون کیمروں کے استعمال پر بھی اعتراض کیا اور نجی زندگی و بنیادی آزادیوں کے تحفظ پر زور دیا۔

پریس کانفرنس میں موجود سیاسی و سماجی رہنماؤں نے کہا کہ کیچ کے عوام کو امن، روزگار، کاروبار، بارڈر تجارت، آزادانہ نقل و حرکت اور بنیادی شہری و آئینی حقوق کی عملی ضمانت دی جائے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے ۱۹ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کے لیے واضح اور فوری لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا۔

آل پارٹیز کیچ نے خبردار کیا کہ مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ رہنماؤں نے کہا کہ آئندہ مرحلے میں شٹر ڈاؤن، احتجاجی جلسوں، دھرنوں اور دیگر جمہوری و آئینی احتجاجی اقدامات کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article