بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بلوچ مسلح آزادی پسندوں اور پاکستانی فوج کے درمیان شدید جھڑپوں، بمباری اور عسکری و معاشی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے جانے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ضلع واشک کے علاقے بیسمہ میں بلوچ سرمچاروں نے سی پیک (CPEC) کے اہم روٹ کے مختلف حصوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
شاہراہ کے بعض حصوں پر ناکہ بندی کے بعد فوج اور سرمچاروں کے درمیان شدید فائرنگ اور جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔
ضلع قلات کے علاقوں مہلبی اور گراری میں بیک وقت متعدد مقامات پر حملے کیے گئے ہیں۔
ابتدائی دعوؤں کے مطابق سرمچاروں نے سیندک پروجیکٹ کی گاڑیوں اور سامان لے جانے والے قافلے کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوج کی گاڑیوں پر بھی الگ سے حملہ کیا ہے۔
ضلع خاران کے علاقے آلباٹ میں قائم پاکستانی فوج کے ایک مرکزی کیمپ کو شدید مسلح حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے بعد کیمپ پر متعدد مارٹر گولے بھی داغے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں فورسز کو جانی اور مالی نقصان پہنچنے کا قوی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
زمینی ذرائع سے آنے والی ان ابتدائی رپورٹس کے بعد تمام متعلقہ علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔ فورسز اور سرکاری حکام کی جانب سے جانی و مالی نقصان کے حتمی اعداد و شمار کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔