بسیمہ میں سی پیک روٹ پر مسلح افراد کا کنٹرول ،قلات و خاران میں فوج و سیندک پروجیکٹ قافلے پرحملے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بلوچ مسلح آزادی پسندوں اور پاکستانی فوج کے درمیان شدید جھڑپوں، بمباری اور عسکری و معاشی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے جانے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ضلع واشک کے علاقے بیسمہ میں بلوچ سرمچاروں نے سی پیک (CPEC) کے اہم روٹ کے مختلف حصوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔

شاہراہ کے بعض حصوں پر ناکہ بندی کے بعد فوج اور سرمچاروں کے درمیان شدید فائرنگ اور جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

ضلع قلات کے علاقوں مہلبی اور گراری میں بیک وقت متعدد مقامات پر حملے کیے گئے ہیں۔

ابتدائی دعوؤں کے مطابق سرمچاروں نے سیندک پروجیکٹ کی گاڑیوں اور سامان لے جانے والے قافلے کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوج کی گاڑیوں پر بھی الگ سے حملہ کیا ہے۔

ضلع خاران کے علاقے آلباٹ میں قائم پاکستانی فوج کے ایک مرکزی کیمپ کو شدید مسلح حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے بعد کیمپ پر متعدد مارٹر گولے بھی داغے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں فورسز کو جانی اور مالی نقصان پہنچنے کا قوی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

زمینی ذرائع سے آنے والی ان ابتدائی رپورٹس کے بعد تمام متعلقہ علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔ فورسز اور سرکاری حکام کی جانب سے جانی و مالی نقصان کے حتمی اعداد و شمار کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article