بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے قریب قومی شاہراہ کے ساتھ نالے سے تین افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق تینوں افراد کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد لاشیں نالے میں پھینک دی گئی تھیں، تاہم ان کی شناخت اور قتل کے محرکات تاحال سامنے نہیں آ سکے ہیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ لاشیں گھنٹوں موقع پر پڑی رہیں اور ان کے قریب آوارہ کتوں کے جھنڈ دیکھے گئے۔ انتظامیہ کی جانب سے لاشیں تحویل میں لینے اور ہسپتال منتقل کرنے میں تاخیر پر مقامی شہریوں میں شدید غم و غصہ اور تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ فوراً لاشوں کو تحویل میں لے کر ان کی شناختی کارروائی مکمل کی جائے اور واقعے کی تحقیقات کی جائیں۔
یہ لاشیں ایک ایسے وقت میں برآمد ہوئی ہیں جب گزشتہ تین سے چار دنوں میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آپریشنز کے دوران تقریباً چار درجن (48 کے قریب) "مسلح افراد” کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کا یہ سنسنی خیز دعویٰ اگست کے پورے مہینے میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی جانب سے بلوچستان بھر میں کی جانے والی وسیع پیمانے کی فوجی کارروائیوں، سیکیورٹی فورسز پر مہلک حملوں اور سرکاری املاک کو پہنچائے گئے شدید نقصان کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔
تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اگست کی ناکامیوں اور جانی نقصان کو چھپانے کے لیے ماضی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے خفیہ عقوبت خانوں میں قید "جبری لاپتہ افراد” کو ماورائے عدالت قتل کر کے انہیں "مقابلے میں مارے جانے والے مسلح افراد” کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔
مستونگ سے ملنے والی تینوں لاشوں کے بارے میں بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ پہلے سے لاپتہ کیے گئے بلوچ نوجوانوں کی ہو سکتی ہیں، کیونکہ آزادی پسند مسلح تنظیمیں فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارے جانے والے اپنے اراکین کی تفصیلات فوری طور پر اپنے باضابطہ ذرائع ابلاغ پر جاری کر دیتی ہیں۔