بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنما و بلوچستان وزیر صادق عمرانی کی جانب سے امن و امان کے لیے مختص اربوں روپے کے فنڈز پر سوالات اٹھانے اور اسلام آباد کانفرنس سے متعلق دیے گئے بیان کے بعد ان کے خلاف اسمبلی میں مشترکہ مذمتی قرارداد پیش کر دی گئی ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر صادق عمرانی نے بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال اور فورسز کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کی ذمہ دار قوتوں کے لیے حکومت سالانہ اربوں روپے کے فنڈز مختص کرتی ہے، لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے کیوں نہیں آ رہا؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے عوام جو ٹیکس دیتے ہیں انہیں تحفظ نہ ملنے کی وجوہات واضح کی جائیں۔
بلوچستان وزیر نے اسلام آباد میں ہونے والی ایک کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے 235 افراد وہاں شریک ہوئے اور وہ وہاں سے تذلیل کروا کر واپس آئے۔
وزیر کے اس بیان کے بعد بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان وزیر علی مدد جتک نے ایک مشترکہ مذمتی قرارداد پیش کی، جس کے محرکین میں وزراء ضیا اللہ لانگو، نور محمد دوڑ، بخت کاکڑ، ارکانِ اسمبلی برکت رند، اسفندیار کاکڑ، ہادیہ نواز اور فرح عظیم شاہ شامل تھے۔
قرارداد پیش کرتے ہوئے علی مدد جتک نے کہا کہ 31 اگست کے اجلاس میں صادق عمرانی کی تقریر میں استعمال کیے گئے الفاظ سےبلوچستان کے عوام کی دل آزاری ہوئی ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد کی کانفرنس میں بلوچستان کے نمائندوں کو عزت دی گئی تھی، لہٰذا صادق عمرانی کی اس تقریر کی شدید مذمت کی جاتی ہے اور اسمبلی ریکارڈ سے ان کے قابلِ اعتراض الفاظ فوری طور پر حذف کیے جائیں۔
یاد رہے کہ یہ رپورٹ سامنے آئی تھیں کہ اسلام آباد کانفرنس میں بلوچستان سے 235 افراد کووہاں شرکت کے لئے گئے تھے ،عسکری حکام کی جانب سے ان کی سخت تذلیل کی گئی تھی۔