پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد اور دیگر شہروں سے آئے صحافیوں و یوٹیوبرز کی آمد کے موقع پر سیکیورٹی خدشات کے نام پر پاکستانی فوج کے ناروا سلوک کے خلاف تربت ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر طبی عملے نے احتجاجاً ہسپتال میں تمام طبی خدمات کا بائیکاٹ کر دیا ہے، جس سے آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق باہر سے آئے کانٹینٹ کریئیٹرز اور یوٹیوبرز کی حفاظت کے لیے عائد کی گئی سیکیورٹی کے تحت ایف سی (FC) اہلکاروں نے ہسپتال کے داخلی راستوں کی بندش کر کے سینئر ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور طبی عملے کو ہسپتال کے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔
ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ ایف سی اہلکاروں نے سینئر ڈاکٹرز کے ساتھ پرتشدد رویہ اور بدسلوکی اختیار کی، جبکہ کچھ ڈاکٹرز پر بندوقیں تان کر انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔
ایف سی اہلکاروں کے اس رویے اور تشدد کے خلاف پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن اور ہسپتال کے شعبہ صحت سے وابستہ افراد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ہسپتال کے احاطے میں ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی اور فورسز کی غنڈہ گردی و نعرے بازی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
طبی عملے کا کہنا ہے کہ فورسز کی جانب سے ہسپتال کے راستے بند کرنے اور تشدد کی وجہ سے معمول کی طبی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مطالبات کی منظوری اور ملوث ایف سی اہلکاروں کے خلاف کارروائی تک سروسز کے مکمل بائیکاٹ کا اعادہ کیا ہے۔