بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بل نگور میں واقع بل جنگل سے ایک شخص کی لاش برآمدہوئی ہے ۔
یاد رہے کہ گذشتہ روزپاکستانی فوج نے 2 افراد کی لاشیں تربت کے ٹیچنگ اسپتال میں منقتل کی تھیں۔
مذکورہ لاشوں کے حوالے سے پولیس نے دعویٰ کیاکہ دونوں افراد گزشتہ شب بل نگور کے مقام پر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مبینہ جھڑپ کے دوران مارے گئے تھے جن کی لاشیں صبح ایف سی کی جانب سے تربت ٹیچنگ اسپتال منتقل کی گئی تھیں۔
بل نگور کی حدود میں واقع بل جنگل سے برآمد ہونے والے لاش کی شناخت پولیس ذرائع کے مطابق امام نور ولد نور محمد، سکنہ سورک بل نگور، کے نام سے ہوئی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق امام نور کی ہلاکت فائرنگ کے واقعے میں ہوئی، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکی ہیں۔
مقتول امام نور معروف بلوچی و اردو زبان کے قلم کار اور مصنف مرحوم خورشید نگوری کے برادرِ نسبتی تھے۔
بلوچستان بھر میں پاکستانی فوج اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے مسلسل اور مہلک حملوں کے ردِعمل میں مختلف علاقوں سے لاشیں برآمد ہونے کا سلسلہ ایک بار پھر تیز ہو گیا ہے۔
مختلف سیاسی و انسانی حقوق کے حلقے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ برآمد ہونے والی یہ لاشیں دراصل سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں موجود جبری لاپتہ افراد کی ہو سکتی ہیں، جنہیں دورانِ حراست قتل کر کے جعلی مقابلوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ فورسز اپنی ناکامیوں کا بدلہ لینے اور جانی نقصان کو چھپانے کے لیے اس نوعیت کے اقدامات کر رہی ہیں، جو کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت سنگین جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔