نوشکی میں ایف سی کی فائرنگ سے افغان شہری ہلاک، مستونگ میں جھڑپوں کے بعد شاہراہ بند

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے نوشکی اور مستونگ میں پیش آنے والے دو مختلف واقعات میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی فائرنگ سے ایک افغان شہری ہلاک جبکہ مسلح افراد اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد کوئٹہ کراچی شاہراہ پر آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہے۔

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں احمد وال کے علاقے خاران کراس کے مقام پر فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک افغان شہری ہلاک اور 3 افراد زخمی ہو گئے۔

مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کوئٹہ کی جانب جانے والی افغان تارکینِ وطن کی ایک گاڑی کو مبینہ طور پر نہ رکنے پر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

فائرنگ کے نتیجے میں 50 سالہ افغان شہری گل احمد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ گاڑی کے ڈرائیور زاہد مینگل (رہائشی نوشکی) اور دو افغان شہری عبدالکریم اور اللہ داد شدید زخمی ہوئے۔

لاش اور زخمیوں کو فوراً گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال نوشکی منتقل کیا گیا، جہاں سے شدید زخمیوں کو علاج کے لیے کوئٹہ ریفر کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں مسلح افراد اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید نوعیت کی جھڑپوں کو 8 گھنٹے گزرنے کے باوجود کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔

ذرائع کے مطابق صبح 9 سے 10 بجے کے درمیان مسلح افراد نے پاکستانی فوج کی ایک بکتر بند گاڑی کو آئی ای ڈی (IED) دھماکے سے نشانہ بنایا، جس کے فوراً بعد پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد اور فورسز کے درمیان دو مختلف مقامات پر شدید فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان طویل جھڑپوں میں فورسز کے متعدد اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

واقعے کے بعد علاقے میں انتہائی کشیدگی پھیلی ہوئی ہے اور کوئٹہ کراچی مرکزی شاہراہ کی بندش کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article