بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے سرحدی اور تجارتی لحاظ سے اہم شہر ماشکیل پر اپنے مربوط و کثیر الجہتی گوریلا آپریشن، فورسز کے کیمپوں پر حملوں اور شہر کا کنٹرول سنبھالنے کے مناظر پر مشتمل 3 منٹ 45 سیکنڈ کی باقاعدہ ویڈیو جاری کر دی ہے۔
29 اگست 2026 کو دوپہر ٹھیک 3:30 بجے بی ایل ایف کے سرمچاروں نے ماشکیل شہر میں ایک بڑا آپریشن شروع کیا۔ اس کارروائی کے دوران مقامی پولیس اور کسٹم اسٹیشنوں کو کنٹرول میں لیا گیا جبکہ پاکستانی فورسز کی مختلف چوکیوں اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے مرکزی کیمپ کو شدید اور مہلک حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں میں 25 سے زائد سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ فورسز کے 3 کواڈ کاپٹر اور 1 سرویلنس ڈرون تباہ کر دیے گئے۔

بی ایل ایف کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سرمچار 29 اگست کو دوپہر 3:30 بجے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ بغیر کسی خوف و خطر کے ماشکیل شہر کی گلیوں اور بازاروں میں داخل ہو کر آزادانہ گشت کر رہے ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سرمچاروں نے شہر کے اہم سرکاری و عسکری مراکزی کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
ویڈیو مناظر کے مطابق شہر میں فورسز کا کوئی نام و نشان نظر نہیں آتا اور ان کی پیش قدمی مکمل طور پر معطل دکھائی دیتی ہے۔
ویڈیو میں سرمچار فورسز کے مرکزی ملٹری کیمپ کے اطراف پھیل کر اس پر آر پی جی (RPG) اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کرتے نظر آتے ہیں، جبکہ پولیس اور کسٹم اسٹیشنوں پر قبضہ قائم کر کے وہاں موجود سرکاری دستاویزات اور اشیاء کو نذرِ آتش کرتے دکھائے گئے ہیں۔
آپریشن کے اختتام پر سرمچاروں کو ایک عمارت پر بی ایل ایف کا پرچم لہراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ 3 منٹ 45 سیکنڈ کی ویڈیو کے آخری مناظر میں فورسز کے کیمپوں اور دفاتر سے تحویل میں لیے گئے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور گولیاں نمائش کے لیے پیش کی گئی ہیں۔
اس غیر معمولی اور بڑے گوریلا آپریشن اور جاری کردہ ویڈیو کے حوالے سے سرکاری حکام یا آئی ایس پی آر کا کوئی موقف اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔