بی ایل ایف کی ماہ اگست کی کارروائیاں : 143 اہلکار ہلاک ، انٹیلی جنس دفاتر و فوجی کیمپ تباہ، بھاری مقدار میں اسلحات ضبط

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچستان کی آزادی پسند متحرک مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف ) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے تنظیم کی ماہ اگست کی آپریشنل رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق ماشکیل شہر پر سرمچاروں نے مکمل کنٹرول حاصل کیا، 143 عسکری اہلکار ہلاک و زخمی کئے ، انٹیلی جنس دفاتر اور فوجی کیمپ تباہ کردیئے گئے جبکہ بھاری مقدار میں اسلحات ضبط کئے گئے۔

ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے اگست 2026 کے مہینے میں مقبوضہ بلوچستان کے طول و ارض میں قابض پاکستانی فوج، اس کے دیگر کلیدی سکیورٹی اداروں، انٹیلی جنس نیٹ ورکس، ریاستی سرپرستی میں سرگرم مسلح جتھوں، اور استعماری معاشی و دفاعی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ شدت اور غیر معمولی تزویراتی عزم کے ساتھ جاری رکھا۔ ان منظم اور ہدف بنا کر کی گئی کارروائیوں کا دائرہ کار خاران، تمپ، سوراب، خضدار، تربت، ہیرونک، پیدراک، چاغی، مستونگ، نوشکی، گومازی، مشکے، شادی کور، بلیدہ، مند، قلات، جھاؤ، آواران، کوئٹہ، پنجگور اور ماشکیل سمیت 21 مختلف علاقوں تک پھیلا رہا۔ ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد قابض ریاست کے استحصالی ڈھانچے کو مفلوج کرنا اور مقبوضہ بلوچستان میں اس کی گرفت و عمل داری کی جڑیں اکھاڑ کر ختم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے اگست کے مہینے میں مجموعی طور پر 51 کارروائیاں سرانجام دیں، جن میں ایک خصوصی تزویراتی آپریشن بھی شامل ہے۔ ان منظم ضربات کے نتیجے میں مجموعی طور پر قابض پاکستانی فوج کے 102 عسکری اہلکار ہلاک اور 28 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ تحریک کے خلاف مخبری کے نیٹ ورک چلانے والے دشمن کے 13 کلیدی آلہ کاروں اور ایجنٹوں کو بھی نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔ دشمن کی افواج کے خلاف سرزمین کے دفاع اور قومی آزادی کی اس عظیم جنگ میں دلیری سے لڑتے ہوئے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے 9 جانباز سرمچاروں نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ تزویراتی لحاظ سے اس ماہ کی سب سے بڑی اور اہم ترین کارروائی 29 اگست 2026 کو ماشکیل شہر میں ایک منظم، مربوط اور ہمہ جہتی گوریلا آپریشن کی صورت میں سرانجام دی گئی۔ سرمچاروں نے ماشکیل شہر پر مکمل کنٹرول قائم کرتے ہوئے قابض فورسز اور عسکری اہداف پر شدید حملے کرکے انھیں بھاری نقصان پہنچائی۔ اس منظم و مربوط آپریشن میں دشمن کے 25 سے زائد سکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ فضا میں نگرانی کرنے والے 3 کواڈ کاپٹرز اور 1 سرویلینس ڈرون کو تباہ کر کے بھاری مقدار میں ہتھیار اور فوجی ساز و سامان بھی ضبط کر لیا گیا۔

تنظیم کے مطابق عسکری پیش قدمی اور تزویراتی حملوں کے تسلسل میں دشمن کی سپلائی اور رسد کے نظام کو منقطع کرنے کے لیے مختلف اوقات میں بڑی شاہراہوں پر 7 مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کر کے کنٹرول حاصل کیا گیا، جبکہ دشمن فورسز کی نقل و حرکت کو روکنے اور محدود کرنے کی حکمت عملی کے تحت دشمن کے 10 فوجی قافلوں پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا اور انھیں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے علاوہ، سرمچاروں نے دشمن کے 10 بڑے عسکری کیمپوں، 16 اہم فوجی چیک پوسٹوں اور 2 انٹیلی جنس دفاتر پر بھی براہ راست اور مربوط حملے کیے، جن میں دشمن کا دفاعی نظام شدید متاثر ہوا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ تکنیکی، مواصلاتی اور مادی محاذ پر قابض کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے سرمچاروں نے نگرانی کے جدید آلات کو نشانہ بنایا۔ فضا میں دشمن کی جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے 1 سرویلینس ڈرون اور 3 کواڈ کاپٹرز کو کامیابی سے تباہ کیا گیا، جبکہ مواصلاتی نظام کو نشانہ بناتے ہوئے 1 موبائل ٹاور کو بھی ناکارہ بنا دیا گیا۔ مادی و عسکری محاذ پر کارروائیوں اور دھماکوں کے دوران قابض فوج کی 10 عسکری گاڑیاں تباہ کی گئیں، جبکہ ماشکیل کے کامیاب معرکے اور دیگر چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران پسپا ہونے والے دشمن کے اہلکاروں سے 43 جدید ہتھیار اور دیگر عسکری ساز و سامان بھی قبضے میں لے کر ضبط کر لیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ عسکری کارروائیوں میں تنوع اور جنگی برتری کو برقرار رکھتے ہوئے اس ماہ دشمن کے خلاف گوریلا جنگ کے مختلف اور جدید حربے استعمال کیے گئے۔ مجموعی طور پر 18 مرتبہ دشمن پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے گئے، 13 بار گرنیڈ لانچر سے کارروائیاں کی گئیں، 10 مرتبہ گھات لگا کر دشمن پر مہلک حملے کئے گئے، 2 بار آئی ای ڈی ریموٹ کنٹرول دھماکے کیے گئے، 2 بار دستی بم حملے اور 2 بار اسنائپر حملوں میں دشمن کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہانٹیلیجنس بنیادوں پر مبنی ایک آپریشن بھی انجام دیا گیا۔ یہ متنوع اور مہلک حملے تنظیم کی عسکری مہارت، کامیاب منصوبہ بندی اور ہر قسم کے حالات میں جنگ لڑنے کی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے جان نچھاور کرنے والے ان تمام قومی شہداء کو ان کی لازوال قربانی پر سلام عقیدت پیش کرتی ہے اور اپنے اس عزم کی تجدید کرتی ہے کہ شہداء کا مشن بلوچستان کی کامل آزادی تک جاری رہے گا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article