زیارت میں پاکستانی فورسز پر بڑا حملہ، کیپٹن سمیت 6 اہلکارہلاک، درجنوں گاڑیاں نذرِ آتش

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے کوئٹہ ژوب شاہراہ پر زیارت کراس کے قریب واقع غرکئی پولیس اسٹیشن کے متصل جوائنٹ پولیس و کسٹم آفس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (FC) کیمپ پر رات گئے مسلح افراد نے ایک بڑا اور شدید حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں افسر سمیت کم از کم 6 سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی یا لاپتہ ہو گئے ہیں۔

ابتدائی تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق مسلح افراد کے مفصل حملے میں 134 ونگ کے کیپٹن ضیاء اللہ سمیت 6 اہلکار ہلاک ہوئے۔ دیگرہلاک اہلکاروں میں حوالدار سمیع اللہ، لانس نائک نوروز، لانس نائک شکیل اور سپاہی سجاول شامل ہیں۔

حملے میں 7 سے زائد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں ایف سی آئی یو کے حوالدار جہانگیر، لانس نائک سردار، لانس نائک شبیر اور سپاہی انوار شامل ہیں، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے حملے کے دوران جوائنٹ چیک پوسٹ پر قبضہ کر کے وہاں موجود اسلحہ اور سرکاری سامان تحویل میں لے لیا اور بعد ازاں عمارت کو آگ لگا دی۔

واقعے کے فوراً بعد منظرِ عام پر آنے والی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زیارت کراس پر غرکئی پولیس اسٹیشن کے قریب واقع کسٹم آفس اور اطراف کے علاقے میں شدید تباہی مچی ہوئی ہے۔ حملے کے بعد درجنوں کی تعداد میں کھڑی گاڑیاں جل رہی ہیں اور پورا علاقہ شدید آگ اور دھوئیں کی لپیٹ میں ہے۔

سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو حصار میں لے کر شاہراہ کو نقل و حمل کے لیے بند کر دیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے ۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article