بلوچستان اور کراچی کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ 6 بلوچ نوجوان فورسز کی اذیت خانوں سے بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق بازیاب ہونے والے نوجوانوں کو مختلف اوقات اور مقامات سے لاپتہ کیا گیا تھا، جن کی رہائی گزشتہ چند دنوں کے دوران عمل میں آئی ہے۔
نجیب اللہ بلوچ ولد سرور بلوچ : سکونت کلی باروزئی، کوئٹہ۔ انہیں 7 جولائی 2026ء کو جبری لاپتہ کیا گیا تھا اور 25 اگست 2026ء کو کوئٹہ سے ان کی رہائی عمل میں آئی۔
حسنائین امداد ولد امداد بلوچ : سکونت سرواہن، پنجگور۔ 21 اگست 2026ء کو اٹھایا گیا اور 25 اگست 2026ء کو پنجگور میں ان کی بازیابی ہوئی۔
خدا بخش ولد دلوش : سکونت گدانی، حب چوکی۔ 2 فروری 2026ء کو لاپتہ کیا گیا، جنہیں 28 اگست 2026ء کو سینٹرل جیل کراچی سے رہا کیا گیا۔
حیات سبزل ولد سبزل : سکونت کنچتی دشت، کیچ۔ 26 اگست 2026ء کو جبری لاپتہ ہوئے اور 28 اگست 2026ء کو تربت شہر، کیچ سے بازیاب ہوئے۔
دوست محمد ولد قاسم : سکونت ٹکری گوٹھ ماڑی پور، کراچی۔ 16 اگست 2026ء کو جبری لاپتہ کیا گیا اور 29 اگست 2026ء کو ماڑی پور کراچی سے ان کی رہائی ہوئی۔
سخی ولد کریم داد : سکونت ٹکری گوٹھ ماڑی پور، کراچی۔ انہیں بھی 16 اگست 2026ء کو جبری لاپتہ کیا گیا تھا اور 29 اگست 2026ء کو ماڑی پور، کراچی سے رہائی ملی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی اور دیگر فعال تنظیموں نے نوجوانوں کی واپسی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام جبری لاپتہ افراد کو فوری طور پر بااعتماد اور قانونی عدالتوں میں پیش کر کے ان کی بحالی یقینی بنائی جائے۔