بولان اور پسنی سے جبری لاپتہ 3 نوجوانوں کو دورانِ حراست ماورائے عدالت قتل کیا گیا، بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے بلوچستان کے علاقے بولان اور گوادر سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے تین بلوچ نوجوانوں کے دورانِ حراست تشدد اور ماورائے عدالت قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ترجمان کے مطابق، بولان کے علاقے مچھ (کرتھہ) کے رہائشی نواب خان کے دو بیٹوں لیویز اہلکار و حافظِ قرآن حافظ محمد وقاص اور بولان میڈیکل کالج کے طالب علم مٹھا خان کو عید الاضحیٰ سے قبل سی ٹی ڈی (CTD) اور ایف سی (FC) نے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کیا تھا۔ دونوں بھائیوں کو حراست کے دوران شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا اور 24 اگست 2026ء کو ان کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔ ایک ہی گھر کے دو امید افزا نوجوانوں (ایک سرکاری اہلکار اور دوسرے مستقبل کے ڈاکٹر) کو اس بے رحمی سے قتل کرنا ریاستی بربریت کا واضح ثبوت ہے۔

اسی طرح، تحصیل پسنی (ضلع گوادر) کے علاقے شادی کور کے رہائشی سردل شیر خان کو 22 نومبر 2025ء کو ملٹری انٹیلی جنس (MI) نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ 6 ماہ تک اپنے پیارے کی محفوظ واپسی کا انتظار کرنے والے اہلخانہ کو 30 مئی 2026ء کو ان کی لاش ایک ویران علاقے سے ملی۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بلا خوفِ احتساب شہریوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا، اذیت گاہوں میں تشدد کرنا اور بعد ازاں انہیں ماورائے عدالت قتل کر کے لاشیں پھینکنا ایک معمول کا حربہ بن چکا ہے۔ کسی بھی باقانون ریاست میں شہریوں کو قانون و عدالت سے محروم رکھ کر یوں قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

بی وائی سی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کا فوری نوٹس لیں اور ان کی آزادانہ و غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article